اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) معاشی میدان میں پاکستان کا اعتماد بتدریج بڑھتا دکھائی دے رہا ہے اور دہائیوں سے جاری آئی ایم ایف کے چنگل سے مستقل نجات حاصل کرنے کے لیے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پاکستان اس وقت 24 ویں آئی ایم ایف پروگرام سے گزر رہا ہے، جس کی کڑی شرائط بشمول ٹیکسوں میں اضافہ، مہنگی بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں نے تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو شدید متاثر کیا ہے۔ تاہم، اب حکومت نے 2027 میں اس پروگرام کی تکمیل کے بعد دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانے کا پختہ ارادہ ظاہر کیا ہے۔ اسی مقصد کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے تین اعلیٰ سطح کی کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جو وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، احسن اقبال اور اعظم نذیر تارڑ کی سربراہی میں معاشی نمو، برآمدات میں اضافے، ایف بی آر اصلاحات اور قانونی پیچیدگیوں کے خاتمے پر کام کر رہی ہیں۔

وزارتِ منصوبہ بندی کی حالیہ رپورٹ میں برآمدات کی راہ میں حائل مہنگی بجلی، پیچیدہ ٹیکس نظام اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑی رکاوٹ قرار دیا گیا ہے۔ حکومت نے 2035 تک ملکی برآمدات کو موجودہ 35 ارب ڈالرز سے بڑھا کر 120 ارب ڈالرز تک لے جانے کا پرجوش ہدف مقرر کیا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت جہاں ایک طرف حوالہ ہنڈی کے خاتمے اور کرپٹو کرنسی کو باضابطہ مالیاتی نظام میں لانے کے لیے قانون سازی کی گئی ہے، وہیں دوسری جانب دفاعی برآمدات میں بھی نمایاں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ آذربائیجان، سعودی عرب، عراق اور انڈونیشیا سمیت کئی ممالک نے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں اور دیگر دفاعی سازوسامان کی خریداری میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے، جس سے ملک کو اربوں ڈالرز کا زرمبادلہ حاصل ہونے کی امید ہے۔

پاکستان کی معاشی بحالی کے پلان میں معدنی وسائل کا حصول ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اپریل 2026 میں منعقد ہونے والی ‘منرلز انویسٹمنٹ سمٹ’ کے ذریعے عالمی سرمایہ کاروں کو دعوت دی جائے گی تاکہ ملک کے وسیع معدنی ذخائر سے فائدہ اٹھا کر جی ڈی پی میں سالانہ سات ارب ڈالرز تک کا اضافہ کیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر حکومت معدنیات، دفاعی پیداوار اور بنیادی معاشی ڈھانچے میں اصلاحات کے اس ایجنڈے پر مستقل مزاجی سے عمل پیرا رہی، تو نہ صرف آئی ایم ایف سے نجات ممکن ہوگی بلکہ حکومت کے پاس عوام کو بجلی کی قیمتوں میں کمی اور اشیائے ضروریہ پر سبسڈی جیسے براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کے اختیارات بھی بڑھ جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے