چکوال (نامہ نگار): جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے چکوال میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حکومت کو جعلی مینڈیٹ کی حامل قرار دیا اور سوال اٹھایا کہ اصل فیصلے کون کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس اصل مینڈیٹ موجود نہیں، اور جعلی مینڈیٹ کے باوجود بھی حکومت دراصل پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ہے جبکہ پیپلز پارٹی صرف سہارا بنی ہوئی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب آئین کے خلاف قانون سازی ہوگی تو اس کا مطلب آئین سے بغاوت ہوگا اور مینڈیٹ خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔

انہوں نے فاٹا کے صوبے میں انضمام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت مخالفت کے باوجود فیصلہ طاقت کے زور پر نافذ کیا گیا، جس کے بعد علاقے میں ریاست کی رٹ ختم ہو گئی اور مسلح گروپس نے قبضہ جما لیا۔

مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی گرفتاری اور ملاقاتوں پر پابندی کو بھی جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ فیصلے سیاست دانوں کو کرنے چاہئیں، طاقت صرف ان فیصلوں کے بعد استعمال ہوتی ہے۔

امیر جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ 22 دسمبر کو علما کی کانفرنس میں پراسیکیوشن اور دیگر اداروں کی ناکامیوں پر واضح مؤقف پیش کیا جائے گا اور حکومت کی حقیقی نوعیت پر روشنی ڈالی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے