بہاولپور (کیو این این ورلڈ) ممتاز ماہرِ تعلیم، سربراہ شعبۂ سرائیکی و کنٹرولر امتحانات گورنمنٹ صادق عباس گریجویٹ کالج ڈیرہ نواب صاحب، ڈاکٹر محمد الطاف ڈاہر جلالوی نے سرائیکی زبان کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے اور اسے انٹرمیڈیٹ سطح پر رائج کرنے کے لیے 2011 سے شروع ہونے والے اپنے طویل اور تاریخی سفر کی کامیاب تکمیل کا اعلان کیا ہے۔ ڈاکٹر محمد الطاف ڈاہر جلالوی کے مطابق اس مشن کا آغاز ستمبر 2011 میں گورنمنٹ بوائز پوسٹ گریجویٹ کالج بہاولنگر سے ہوا، جہاں انہوں نے بطور سرائیکی سی ٹی آئی لیکچرر ایف اے کی سطح پر تدریس کا بیڑا اٹھایا۔ اس وقت کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر قاضی عبداللہ کے بھرپور تعاون سے نصاب کی تیاری شروع کی گئی اور یہ ایک منفرد تاریخی اعزاز ہے کہ 2012 میں سرائیکی فرسٹ ایئر کا پہلا امتحان دینے والے طلبہ کا تعلق اسی کالج سے تھا۔

اس تعلیمی تحریک کو قانونی اور انتظامی شکل دینے کے لیے جنوری 2012 میں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بہاولپور میں نصاب سازی کے لیے پہلا باقاعدہ اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد مادری زبان میں اعلیٰ تعلیم کا خواب حقیقت بن کر سامنے آیا۔ ڈاکٹر الطاف ڈاہر جلالوی نے اپنی اس جدوجہد میں سابق صوبائی وزیر جیل خانہ جات جناب ملک محمد اقبال چنڑ کی عملی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ڈیرے پر ہونے والی مسلسل نشستیں اس مشن کی کامیابی میں کلیدی ثابت ہوئیں۔ اس دوران اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے فیکلٹی ڈین پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسن چانڈیو، پروفیسر ڈاکٹر ریاض خان سندھر اور موجودہ چیئرمین شعبہ سرائیکی پروفیسر ڈاکٹر ممتاز خان بلوچ کی رہنمائی بھی شاملِ حال رہی۔

اس تعلیمی سفر کے دوران دسمبر 2011 میں پنجاب پبلک سروس کمیشن (PPSC) کی جانب سے سرائیکی لیکچرارز کی 36 نشستوں کا اشتہار جاری ہونا ایک بڑی کامیابی تھی، جس نے اس زبان کے مستقبل کو مزید روشن کر دیا۔ ڈاکٹر محمد الطاف ڈاہر جلالوی نے انکشاف کیا کہ اس مہم کے دوران انہیں شدید مشکلات اور شرپسند عناصر کے منظم حملوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر اللہ کے فضل اور مستقل مزاجی سے تمام رکاوٹیں دور ہو گئیں۔ انہوں نے اس فتح کو سرائیکی زبان و ادب سے وابستہ تمام اساتذہ، معزز شعراء اور ادب دوست سیاسی شخصیات کی انتھک محنت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حق اور انصاف کی یہ فتح تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ اب طلبہ اپنی مادری زبان میں نہ صرف تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ یہ شعبہ پیشہ ورانہ لحاظ سے بھی مستحکم ہو چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے