ٹھٹھہ ( کیو این این ورلڈ/بلاول سموں) گھارو کے قریب فلٹر پلانٹ کالونی سے ملحقہ پہاڑی علاقے میں ایک غیر مسلم خاتون کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی ہے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس حکام کے مطابق لاش دھابیجی تھانے کی حدود سے ملی ہے، جسے قبضے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق متوفیہ کی شناخت 25 سالہ چیتنا دختر پریم چند کے نام سے ہوئی ہے، جو کراچی کی رہائشی بتائی جاتی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی ایس پی میرپور ساکرو، دھابیجی اور گھارو تھانوں کے ایس ایچ اوز بھاری نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔

دورانِ تلاشی متوفیہ کے پرس سے "بسنتی” نامی ایک کارڈ بھی برآمد ہوا ہے، جس کے بارے میں پولیس کا ابتدائی طور پر کہنا ہے کہ یہ کارڈ غالباً اس کی بہن کا ہو سکتا ہے۔ پولیس نے لاش کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے رورل ہیلتھ سینٹر گھارو منتقل کر دیا ہے جبکہ کراچی میں مقیم ورثاء کو بھی اس المناک واقعے کی اطلاع دے دی گئی ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کی موت کی اصل وجوہات پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد واضح ہوں گی۔ واقعے کے ہر پہلو سے تفتیش کی جا رہی ہے اور جلد ہی قاتلوں تک رسائی حاصل کر لی جائے گی۔ تشدد کے نشانات سے یہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خاتون کو کسی اور جگہ قتل کرنے کے بعد لاش یہاں پھینکی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے