کابل (ویب ڈیسک) افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں افغان طالبان کے محکمہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں نے داڑھی منڈوانے کے الزام میں ایک شہری کو حراست میں لے لیا ہے، جس کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ امین اللہ عزیزی نامی شخص کو منگل کی صبح طالبان اہلکاروں نے گرفتار کیا، تاہم گرفتاری کے بعد سے مذکورہ شخص کے مقام یا اس کی جسمانی حالت کے بارے میں اہل خانہ کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہرات میں اس سے قبل بھی داڑھی منڈوانے پر شہریوں کو طالبان کے سخت رویے اور جبری گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن تازہ ترین واقعے پر طالبان حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان یا گرفتاری کی وجوہات سامنے نہیں آئی ہیں۔
واضح رہے کہ طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف کی جانب سے جاری کردہ نئے ضوابط کے تحت مردوں کے لیے داڑھی منڈوانا ممنوع قرار دیا گیا ہے اور حکام نے بارہا خبردار کیا ہے کہ ان احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ سال 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان نے افغانستان بھر میں سخت سماجی اور مذہبی قوانین نافذ کیے ہیں، جن میں مردوں اور عورتوں کے لیے مخصوص ضابطہ اخلاق کی پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں ان اقدامات پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں، تاہم طالبان حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدامات ملکی قوانین اور مذہبی روایات کے عین مطابق ہیں۔