سید محسن نقوی، لفظوں سے شہادت تک
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
آج 15 جنوری 2026 ہے اور یہ دن اردو ادب کی دنیا میں ایک دردناک سانحے کی یاد دلاتا ہے۔ آج سے ٹھیک 30 سال قبل 15 جنوری 1996 کو اردو کے نامور شاعر، ذاکر اور حق گوئی کے علمبردار سید محسن نقوی کو لاہور کے مون مارکیٹ میں نامعلوم دہشت گردوں نے گولیوں سے چھلنی کر کے شہید کر دیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق ان کے جسم میں 45 گولیاں لگی تھیں۔ یہ صرف ایک شاعر کی نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی موت تھی۔ محسن نقوی جن کا اصل نام سید غلام عباس نقوی تھا، 5 مئی 1947 کو ڈیرہ غازی خان کے محلہ سادات میں پیدا ہوئے۔ ان کا شجرہ نسب حضرت سید پیر شاہ جیونہ سے جا ملتا ہے جو کروڑیہ شریف سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے تخلص “محسن” کو نقوی کے ساتھ جوڑ کر ایک ایسا نام تخلیق کیا جو آج بھی اردو شاعری کی تاریخ میں جگمگا رہا ہے۔
محسن نقوی کی پیدائش ایک ایسے خاندان میں ہوئی جو مذہبی اور ادبی اقدار سے مالا مال تھا۔ ان کے والد سید چراغ حسین شاہ تھے۔ بچپن ہی سے ان میں شعر و ادب کا شوق نمایاں تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ڈیرہ غازی خان سے حاصل کی اور بعد ازاں ملتان کے گورنمنٹ کالج بوسن روڈ، جو اب بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ہے، سے اردو میں ایم اے کیا۔ زمانہ طالب علمی ہی میں انہوں نے شاعری کا آغاز کیا اور ذاکری کی طرف راغب ہوئے۔ 1968 میں ان کا نکاح اپنے چچا خادم حسین کی صاحبزادی سے ہوا۔ یہ شادی ان کی زندگی کا ایک پُرسکون باب ثابت ہوئی جہاں انہیں اپنی شریکِ حیات کی محبت اور مکمل حمایت حاصل رہی۔ ان کی ازدواجی زندگی سادگی، خلوص اور اعتماد سے بھرپور تھی۔
محسن نقوی محض ایک شاعر نہیں تھے بلکہ ایک مکمل عہد کی نمائندگی کرتے تھے۔ ان کی شاعری کے دو نمایاں رخ ہیں، ایک طرف رومانوی غزلیں جن میں ہجر و وصال کے نئے اور منفرد رنگ ملتے ہیں، اور دوسری طرف اہلِ بیتؑ کی مدح، مرثیہ نگاری اور کربلا کی لازوال داستان۔ ان کی غزلوں میں کلاسیکی انداز کے ساتھ جدید احساسات اور فکری شگفتگی بھی موجود ہے۔ وہ معاشرتی ناانصافیوں، انسانی نفسیات اور حق و باطل کی کشمکش پر بے خوفی سے لکھتے تھے، اسی جرأتِ اظہار کے باعث انہیں “قتیلِ فرات” کا لقب دیا گیا۔
ان کی شاعری کا مرکزی موضوع انسانی درد، سماجی زیادتیاں اور واقعۂ کربلا ہے۔ وہ اپنے کلام میں حکمرانوں کی بے حسی اور عام آدمی کی مشکلات کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کرتے تھے۔ ان کی شاعری صرف عشق و محبت تک محدود نہیں رہی بلکہ معاشرے کا آئینہ بن گئی۔ ان کی مشہور غزل کا یہ شعر ان کی فکری گہرائی کا منہ بولتا ثبوت ہے:
یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے
اسی طرح ان کا ایک اور معروف شعر ملاحظہ ہو:
کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
شام ڈھل جائے تو محسن تم بھی گھر جایا کرو
ان کی رومانوی شاعری میں بھی درد اور شکستگی نمایاں نظر آتی ہے:
ہم رشکِ آسمان تھے ابھی کل کی بات
کچھ حادثوں سے گر گئے محسن زمین پر
محسن نقوی کی مذہبی شاعری بالخصوص کربلا پر لکھی گئی دنیا بھر میں بے حد مقبول ہے۔ اہلِ بیتؑ کی مدح میں ان کا کلام دلوں کو چھو لینے والا ہے اور مجالس و محافل میں عقیدت کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔
ان کے شعری مجموعوں کی فہرست طویل ہے جو ان کی تخلیقی وسعت اور فکری تنوع کی عکاس ہے۔ بندِ قبا، برگِ صحرا، ریزۂ حرف، عذابِ دید، طلوعِ اشک، رختِ شب، خیمۂ جاں، موجِ ادراک، فراتِ فکر اور “میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی” ان کے نمایاں مجموعے ہیں۔ ان کی شاعری کی یہی وسعت انہیں دیگر شعرا سے ممتاز بناتی ہے۔ 1994 میں حکومتِ پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا۔
جب محسن نقوی نے اپنی شاعری میں کالعدم تنظیموں جیسے سپاہ صحابہ اور طالبان کے نظریات کو بے نقاب کرنا شروع کیا تو وہ شدت پسندوں کی آنکھ میں کھٹکنے لگے۔ 15 جنوری 1996 کی شام وہ اپنے دفتر سے نکل رہے تھے کہ ان پر حملہ کیا گیا اور یوں ایک سچا، بے باک اور حق گو شاعر شہادت کے مرتبے پر فائز ہو گیا۔ ان کی شہادت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اس معاشرے میں سچ بولنے کی کتنی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔
آج بھی محسن نقوی کی شاعری مشاعروں، مجالس اور ادبی نشستوں میں گونجتی ہے۔ وہ ڈیرہ غازی خان کی شان تھے اور پاکستان کی ادبی تاریخ کا ایک روشن باب۔ ان کی برسی پر یہ شعر بے اختیار زبان پر آ جاتا ہے:
یہ دل یہ پاگل دل مرا کیوں بجھ گیا آوارگی
اس شہر میں اک دشت تھا وہ کیا ہوا آوارگی
محسن نقوی کی شاعری آنے والی نسلوں کو حق گوئی، محبت اور جرأتِ اظہار کا درس دیتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔
