اسلام آباد/سڈنی: آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے معروف ساحلی علاقے بونڈی بیچ پر 14 دسمبر 2025 کو پیش آنے والے ہولناک فائرنگ کے واقعے سے متعلق مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا اور پولیس رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ یہودی مذہبی تہوار ہانوکا کی تقریبات کے دوران پیش آیا، جسے آسٹریلوی حکام نے یہودی مخالف دہشت گرد حملہ قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق دو مسلح افراد نے بونڈی بیچ پر شہریوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور 16 سے 17 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ شامل ہیں۔ واقعے کے فوراً بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جبکہ دوسرے کو شہری کی مدد سے قابو کر لیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت مان ہارون مونس کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق ایران سے بتایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب شہری کے دبوچنے کے نتیجے میں گرفتار ہونے والے حملہ آور کی شناخت نوید اکرم کے نام سے ہوئی ہے، جو آسٹریلیا کے جنوب مغربی علاقے کا رہائشی ہے اور پولیس کے مطابق اس کا تعلق افغان نژاد خاندان سے ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار ملزم نوید اکرم کو بونڈی بیچ پر موجود 43 سالہ مسلم شہری احمد ال احمد نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دبوچ کر قابو کیا۔ اس دوران احمد ال احمد خود بھی فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہو گئے، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا آپریشن کیا جا رہا ہے۔ احمد ال احمد آسٹریلیا کے مستقل رہائشی ہیں اور ان کی بروقت کارروائی کے باعث مزید قیمتی جانیں بچ گئیں۔
آسٹریلوی پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ مکمل طور پر منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا اور اس کا ہدف یہودی برادری کی مذہبی تقریب تھی، جس کے باعث اسے دہشت گردی کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ نیشنل اور ریاستی سطح پر انسدادِ دہشت گردی ادارے تحقیقات کر رہے ہیں جبکہ ملزم سے تفتیش جاری ہے۔
پولیس اور معتبر آسٹریلوی میڈیا نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں حملہ آور کو پاکستانی قرار دیا جا رہا تھا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ گرفتار حملہ آور نوید اکرم افغان نژاد آسٹریلوی شہری ہے جبکہ ہلاک ہونے والا شخص ایرانی نژاد تھا، اور پاکستان سے اس واقعے کا کوئی تعلق نہیں۔
واقعے پر آسٹریلوی وزیراعظم اور نیو ساؤتھ ویلز کی اعلیٰ قیادت نے شدید مذمت کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ فائرنگ کے بعد سڈنی بھر میں بالخصوص مذہبی اور عوامی مقامات پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی اس دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔