اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) سپریم کورٹ آف پاکستان نے پینشن سے متعلق ایک تاریخی اور اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ پینشن کوئی خیرات یا رعایت نہیں بلکہ سرکاری ملازم کا بنیادی آئینی حق ہے۔ جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں جسٹس شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل تین رکنی بینچ نے محمد عثمان نامی شہری کی پینشنری فوائد سے متعلق درخواست منظور کرتے ہوئے یہ ریمارکس دیے۔ عدالت نے فیڈرل سروس ٹریبونل کا پینشن مسترد کرنے کا سابقہ فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ پینشن کے حصول میں تاخیر سے حق ختم نہیں ہوتا اور اس پر لمیٹیشن ایکٹ کا اطلاق بھی نہیں ہوتا۔
6 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں، جو جسٹس شفیع صدیقی نے تحریر کیا، عدالت نے کہا کہ درخواست گزار نے ستمبر 2007 میں سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دیا تھا اور اس وقت وہ 20 سالہ کوالیفائنگ سروس مکمل کر چکے تھے۔ متعلقہ محکمے نے 25 سالہ سروس کی شرط پر پینشن دینے سے انکار کیا تھا، تاہم عدالت نے واضح کیا کہ سول سرونٹس ایکٹ 1973 میں 2001 کے دوران ہونے والی ترمیم کے بعد پینشن کی اہلیت 25 سال سے کم کر کے 20 سال کر دی گئی تھی۔ عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے ریگولیشن 418 کے تحت پینشن کی مخالفت کو بھی مسترد کر دیا اور قرار دیا کہ محکمہ اور ٹریبونل کی جانب سے قانون کی تشریح ناقابل قبول ہے، لہٰذا محمد عثمان قانون کے مطابق تمام پینشنری فوائد کے حق دار ہیں۔