لاہور (کیو این این ورلڈ) یونیورسٹی آف لاہور (UOL) کے فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کی 21 سالہ طالبہ فاطمہ نے عمارت کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی ہے، جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے تمام آن کیمپس کلاسز معطل کر کے تدریس کو آن لائن منتقل کر دیا ہے۔ ڈاکٹر آف فارمیسی کے پہلے سمسٹر کی طالبہ کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی ریڑھ کی ہڈی اور ٹانگوں میں فریکچر کی تشخیص ہوئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طالبہ کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، تاہم ابھی تک ان کا باقاعدہ بیان ریکارڈ نہیں کیا جا سکا۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب محض چند ہفتے قبل دسمبر 2025 میں اسی ڈیپارٹمنٹ کے ایک طالب علم محمد اویس سلطان نے بھی مبینہ طور پر تعلیمی دباؤ کی وجہ سے چوتھی منزل سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا۔

پولیس کی ابتدائی تفتیش میں کئی اہم اور چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق فاطمہ صبح 7:58 پر یونیورسٹی پہنچیں لیکن کلاس میں جانے کے بجائے تقریباً 27 منٹ تک فون پر کسی سے مصروف رہیں، جبکہ چھلانگ لگانے سے قبل انہوں نے اپنی آخری کال ہسٹری بھی موبائل سے ڈیلیٹ کر دی تھی۔ تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ طالبہ نے حال ہی میں ہونے والے ایک ٹیسٹ میں 35 میں سے صرف 18 نمبر لیے تھے اور وہ اپنے نتائج سے سخت غیر مطمئن اور پریشان تھیں، جس کا ذکر انہوں نے اپنے والد اور بھائیوں سے بھی کیا تھا۔ پولیس نے یونیورسٹی اور اطراف کی تمام فوٹیج تحویل میں لے لی ہے اور طالبہ کے بھائیوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا واقعہ گھریلو پریشانی کا نتیجہ تھا یا اس کے پیچھے تعلیمی دباؤ جیسے دیگر عوامل کارفرما تھے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے اس واقعے کے بعد سیکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے ہیں اور رجسٹرار علی اسلم کے مطابق طلبہ کی حفاظت اور ذہنی تناؤ کو کم کرنے کے پیش نظر کلاسز کو تاحکمِ ثانی آن لائن کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب، ایک ماہ کے اندر دوسرے واقعے نے تعلیمی اداروں میں بڑھتے ہوئے اکیڈمک دباؤ، سخت اٹینڈنس پالیسی اور طالب علموں کی ذہنی صحت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر طلبہ اور ماہرینِ نفسیات کی جانب سے فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے ماحول، بھاری سلیبس اور کونسلنگ سروسز کی عدم موجودگی پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے کسی قسم کی لاپرواہی ثابت ہوئی تو سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، تاہم اہلخانہ نے تاحال کوئی باقاعدہ درخواست جمع نہیں کرائی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے