بوگوٹا:(کیو این این ورلڈ) کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کے جواب میں اپنی سابقہ قسم توڑنے اور ملک کے دفاع کے لیے دوبارہ ہتھیار اٹھانے کا دوٹوک اعلان کر دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ پر جاری ایک تندوتیز بیان میں صدر پیٹرو نے کہا کہ اگرچہ انہوں نے کبھی ہتھیاروں کو ہاتھ نہ لگانے کا عہد کیا تھا، لیکن اگر مادرِ وطن کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ ایک بار پھر میدانِ جنگ میں اترنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کولمبیئن صدر کو انتہائی توہین آمیز الفاظ میں "بیمار آدمی” قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ کوکین کی پیداوار اور اسے امریکہ میں فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ساتھ ہی انہوں نے کولمبیا کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے اشارے بھی دیے۔
یہ غیر معمولی سفارتی تنازع ایک ایسے حساس وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے حال ہی میں ایک فوجی آپریشن کے ذریعے پڑوسی ملک وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو حراست میں لیا ہے، جس کے بعد پورے خطے میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں یہاں تک کہہ دیا کہ انہیں کولمبیا کی موجودہ حکومت کے خلاف فوجی طاقت کے استعمال کا امکان سن کر "اچھا لگا”۔ ان دھمکیوں کے جواب میں صدر گستاوو پیٹرو نے واضح کیا کہ کولمبیا کی انسدادِ منشیات کی پالیسی انتہائی مضبوط اور واضح ہے، تاہم انہوں نے امریکہ کو خبردار کیا کہ فوجی طاقت کے استعمال کی بھی ایک آخری حد ہوتی ہے جسے عبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس بیان کے بعد لاطینی امریکہ میں سیاسی تناؤ کی ایک نئی لہر پیدا ہو گئی ہے اور عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔