جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ سے تقریباً 40 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع سونے کی کانوں کے علاقے بیکرزڈال میں اتوار کی صبح سویرے ایک بار پر نامعلوم مسلح افراد نے ہولناک فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق تقریباً ایک درجن حملہ آور دو گاڑیوں میں سوار ہو کر آئے اور بار میں موجود افراد پر اندھا دھند گولیاں برسانا شروع کر دیں، جس کے بعد وہ باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں بار کے باہر موجود ایک آن لائن ٹیکسی سروس کا ڈرائیور بھی شامل ہے جو حملے کی زد میں آ گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے مختلف مقامات اور سڑکوں پر بھی بے ترتیب فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے، جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ فائرنگ کے اصل محرکات تاحال سامنے نہیں آ سکے، تاہم سیکیورٹی ادارے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔ جنوبی افریقہ میں حالیہ عرصے میں جرائم، گینگ تشدد اور غیر قانونی اسلحے کی بھرمار کے باعث فائرنگ کے ایسے واقعات ایک معمول بنتے جا رہے ہیں، جو انتظامیہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جنوبی افریقہ میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر ہے، جہاں رواں ماہ کے دوران فائرنگ کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل پریٹوریا کے قریب ایک ہوسٹل پر ہونے والے حملے میں 12 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق اپریل سے ستمبر کے دوران ملک میں روزانہ اوسطاً 63 افراد قتل ہوئے، جن کی بڑی وجوہات ذاتی دشمنیاں، ڈکیتیاں اور منظم گینگ وار بتائی جاتی ہیں۔ سماجی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو پانے کے لیے فوری اور سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ شہریوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔