گلگت: (کیو این این ورلڈ)گلگت بلتستان، استور اور ہنزہ کے بالائی علاقوں میں شدید برف باری کا سلسلہ مسلسل جاری ہے جس کے باعث گلگت شہر سمیت پورے خطے میں خشک سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے۔ بالائی سرحدی علاقوں منی مرگ، قمری اور شنکر گڑھ کی وادیوں میں اب تک دو فٹ تک برف پڑ چکی ہے، جبکہ رٹو، ناصر آباد اور پریشنگ میں بھی وقفے وقفے سے برف باری ہو رہی ہے۔ تحصیل یاسین، پھنڈر اور خنجراب میں ہونے والی حالیہ برف باری نے جہاں پہاڑوں پر سفید چادر تان دی ہے، وہیں استور کے کئی بالائی علاقوں کی رابطہ سڑکیں بند ہو جانے سے مقامی آبادی گھروں میں محصور ہو کر رہ گئی ہے۔ نلتر میں گزشتہ کئی روز سے جاری برف باری کے نتیجے میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور دو توز کے مقام پر 9 انچ برف ریکارڈ کی جا چکی ہے، تاہم ان کٹھن حالات کے باوجود برف باری کا سحر انگیز نظارہ کرنے کے لیے ملک بھر سے سیاحوں کی کثیر تعداد نے ان علاقوں کا رخ کر لیا ہے۔

وادی نلتر میں سیاحوں کے غیر معمولی رش کے باعث ہوٹلوں میں رہائش کی جگہ کم پڑ گئی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے سیاحوں کو ہائی الٹیٹیوڈ اور سڑکوں پر پھسلن کے خطرے کے پیشِ نظر احتیاط برتنے کی سخت تلقین کی ہے۔ محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ چند روز تک برف باری کا یہ سلسلہ مزید شدت کے ساتھ جاری رہ سکتا ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا کے سیاحتی مقام مالم جبہ میں جب سورج نے اپنی کرنیں بکھیریں تو سیاحوں کی بڑی تعداد حسین نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے لیے امڈ آئی، جہاں انہوں نے چیئر لفٹ کی سیر کی اور برف پوش پہاڑوں کے سحر میں کھو گئے۔ ایبٹ آباد اور ہزارہ ڈویژن کے دیگر علاقوں میں بھی بارش اور برف باری کے بعد سردی کی لہر دوڑ گئی ہے، جہاں انتظامیہ سڑکوں سے برف ہٹانے میں مصروف ہے مگر دیہی علاقوں میں بجلی کے بریک ڈاؤن نے مکینوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

سردی کی اس شدید لہر کے اثرات بلوچستان تک بھی پہنچ چکے ہیں، جہاں ضلع کیچ کی مین شاہراہوں پر گرم کپڑوں اور جوتوں کے عارضی بازار سج گئے ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں شہریوں کی بڑی تعداد ان سستے بازاروں کا رخ کر رہی ہے تاکہ لنڈا بازار اور دیگر سستی اشیاء کے ذریعے سردی سے بچاؤ کا انتظام کیا جا سکے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے درجہ حرارت میں کمی آ رہی ہے، خریداروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایک طرف جہاں سیاح موسم سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، وہیں مقامی لوگ بند سڑکوں اور بجلی کی عدم دستیابی کے باعث انتظامیہ کی جانب سے فوری ریلیف کے منتظر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے