چھوٹی چوری بڑا انصاف
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
دو سیب اور ایک ہینڈ واش,بس اتنی سی چیز ایڈیشنل سیشن جج نور محمد بسمل کے چیمبر سے غائب ہوئی۔ نہ کوئی لاکھوں کی نقدی تھی اور نہ ہی سونے کے زیورات۔ مگر تھانہ اسلام پورہ نے فوراً ایف آئی آر کاٹ دی، دفعات لگا دیں اور تفتیش شروع کر دی۔ پولیس اس طرح حرکت میں آئی گویا کوئی بڑا ڈاکہ پڑ گیا ہو۔ اب ذرا میری بات بھی سن لیجئے۔ تقریباً دو سال پہلے میرے دو قریبی رشتے داروں کے دو نئے زیرو میٹر ہنڈا سی ڈی 70 موٹر سائیکل چوری ہوئے جن میں سے ایک کی بازار میں قیمت نوے ہزار روپے سے زائد تھی۔ دونوں رشتے دار تھانے کے چکر لگاتے رہے، درخواستیں دیتے رہے اور منتیں کرتے رہے، تب کہیں جا کر بڑی مشکل سے دونوں کی ایک ہی اکٹھی ایف آئی آر درج ہوئی۔ حیرت انگیز طور پر ایف آئی آر میں موٹر سائیکل کی قیمت صرف تیس ہزار روپے لکھی گئی۔ آج تک نہ کوئی ریکوری ہوئی، نہ کوئی تفتیش، نہ ہی پولیس کی طرف سے کوئی فون آیا۔ پولیس نے بس اتنا کہہ کر ہاتھ کھڑے کر دیے کہ ”سر، بہت کیسز ہیں۔“
جب جج صاحب کے چیمبر سے دو سیب چوری ہونے کی خبر سوشل میڈیا پر آئی تو لاکھوں شہریوں نے اپنا وہی پرانا درد پھر محسوس کیا۔ ایک شخص نے لکھا کہ ”جج صاحب کے سیب چوری ہوئے تو پولیس دن میں تارے دکھا رہی ہے، میرا موٹر سائیکل چھین گیا، دس دن ہو گئے، ابھی تک روزے کی رپورٹ بھی نہیں لکھی۔“ دوسرے نے طنز کیا کہ ”اگلی بار اپنا پرس چوری کرواؤں گا، جج صاحب کے چیمبر میں رکھ کر، شاید تب مقدمہ بن جائے۔“ یہ محض طنز یا ہنسی کی بات نہیں بلکہ اس درد کی آواز ہے جو روزانہ ہزاروں شہریوں کو محسوس ہوتا ہے جب وہ تھانوں کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک جاتے ہیں، رشوت کے مطالبوں سے عاجز آ جاتے ہیں اور آخر کار خاموشی سے اپنے گھر لوٹ جاتے ہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی تازہ ترین نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے 2025 اسی اجتماعی درد کو اعداد و شمار میں بیان کرتی ہے۔ 24 فیصد پاکستانی پولیس کو سب سے کرپٹ ادارہ سمجھتے ہیں، 14 فیصد عدلیہ کو کرپٹ کہتے ہیں اور 77 فیصد عوام سرکاری اینٹی کرپشن اقدامات سے غیر مطمئن ہیں۔ پنجاب میں پولیس کے بارے میں منفی تاثر 34 فیصد تک پہنچ چکا ہے، یعنی ہر تین میں سے ایک شہری پولیس کو کرپٹ سمجھتا ہے۔ یہ محض تاثر نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ صرف اس سال کے پہلے آٹھ ماہ میں کراچی میں 43 ہزار سے زائد اسٹریٹ کرائمز رپورٹ ہوئے۔ اسلام آباد میں چوری اور ڈکیتیوں سے شہریوں کو 620 ملین روپے کا نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ لاہور میں چھ ماہ کے دوران 12 ہزار سے زائد سنگین جرائم ریکارڈ کیے گئے۔ مگر ان میں سے کتنے واقعات میں فوری ایف آئی آر درج ہوئی اور کتنے ملزمان پکڑے گئے؟ اس کا جواب سب کو معلوم ہے۔
لیکن جب بات جج صاحب کے دو سیبوں کی ہو تو قانون کی آنکھیں فوراً کھل جاتی ہیں، کیونکہ یہ چوری ”اندر کی“ تھی—نظام کے اندر کی۔ اس دائرے میں پولیس اور عدلیہ ہمیشہ ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ مگر جب چوری باہر کی ہو، سڑک پر ہو، کسی غریب کی ہو تو یہی پولیس ثبوت مانگتی ہے، درخواست خارج کرتی ہے یا رشوت طلب کرتی ہے۔ یہ دوہرا معیار کوئی نیا نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے جولائی 2025 میں واضح کہا تھا کہ ایف آئی آر درج نہ کرنا طاقت کے ناجائز استعمال اور کمزور طبقات کے بنیادی حقوق کی پامالی کے مترادف ہے۔ مگر فیصلے فیصلوں میں رہ جاتے ہیں اور زمینی صورتحال جوں کی توں برقرار رہتی ہے۔
جج صاحب کے دو سیب ہمارے اجتماعی ضمیر پر ایک بڑا سوال ہیں۔ کیا ہمارے نظام میں انصاف کی قیمت دو سیبوں سے شروع ہوتی ہے؟ کیا غریب کا نوے ہزار کا موٹر سائیکل، مزدور کا موبائل فون، دکاندار کا پرس یا ماں کا سونا صرف ”چھوٹی چیزیں“ ہیں جن کی چوری پر قانون سو جاتا ہے؟ جب تک یہ تضاد ختم نہیں ہوگا، تب تک ہر چھوٹی چوری پر ملنے والا بڑا انصاف دراصل انصاف کا قتل ہی کہلائے گا۔ دو سیبوں کا مقدمہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ ہمارے نظام کی عریاں تصویر ہے، اور اس تصویر کو بدلنے کا وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔
