نئی دہلی/لندن (کیو این این ورلڈ)برطانیہ کے نامور صحافی، براڈکاسٹر اور بی بی سی کے معروف نمائندہ سر مارک ٹلی 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ بھارت میں بی بی سی کے ’’وائس آف انڈیا‘‘ کے نام سے جانے جاتے تھے اور جنوبی ایشیا خصوصاً بھارت کی سیاست، سماج اور تاریخ کو دنیا کے سامنے غیر معمولی گہرائی اور غیر جانبداری سے پیش کرنے کے باعث عالمی سطح پر احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق سر مارک ٹلی 25 جنوری 2026 کو نئی دہلی میں انتقال کر گئے۔ وہ چند روز سے ساکیت میں واقع میکس ہسپتال میں زیر علاج تھے، جہاں انہیں 21 جنوری کو داخل کیا گیا تھا۔ طبی ذرائع کے مطابق ان کی وفات فالج (اسٹروک) کے بعد ملٹی آرگن فیلئر کے باعث ہوئی۔

سر مارک ٹلی تقریباً تین دہائیوں تک بی بی سی کے جنوبی ایشیا بیورو چیف رہے۔ انہیں بھارت سے متعلق خبروں اور تجزیوں کا سب سے معتبر غیر ملکی صحافی تصور کیا جاتا تھا۔ انہوں نے بھارتی سیاست، مذہبی معاملات، سماجی ناہمواریوں اور تاریخی واقعات کو نہایت باریک بینی اور دیانت داری سے رپورٹ کیا، جس کی وجہ سے انہیں بھارت میں بھی غیر معمولی مقبولیت اور احترام حاصل ہوا۔

مارک ٹلی 24 اکتوبر 1935 کو کلکتہ (موجودہ کولکاتا) میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مارلبورو کالج جبکہ اعلیٰ تعلیم کیمبرج یونیورسٹی سے حاصل کی۔ 1964 میں انہوں نے بی بی سی میں شمولیت اختیار کی اور 1993 تک بھارت میں بی بی سی کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔

اپنے طویل صحافتی کیریئر کے دوران سر مارک ٹلی نے برصغیر کے کئی فیصلہ کن اور حساس واقعات کی رپورٹنگ کی۔ ان میں بھارت میں ایمرجنسی (1975-77)، آپریشن بلیو اسٹار، اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل، ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی، بھوپال گیس سانحہ، فرقہ وارانہ فسادات اور 1992 میں ایودھیا میں بابری مسجد کا انہدام شامل ہیں۔ بابری مسجد کے واقعے کے وہ عینی شاہد تھے اور انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیوں کے باعث انہیں کئی گھنٹے ایک کمرے میں محصور رہنا پڑا۔ انہوں نے بابری مسجد کی شہادت کو برطانیہ سے آزادی کے بعد بھارتی سیکولرازم کو ’’سب سے بڑا دھچکا‘‘ قرار دیا تھا۔

سر مارک ٹلی ایک ممتاز مصنف بھی تھے۔ انہوں نے بھارت پر مبنی کئی معروف کتابیں تحریر کیں جن میں No Full Stops in India، India in Slow Motion اور The Heart of India شامل ہیں۔ یہ کتب آج بھی بھارت کو سمجھنے کے لیے مستند حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔

ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں برطانیہ کی جانب سے انہیں نائٹ ہُڈ (Knight Bachelor) کا خطاب دیا گیا، جبکہ بھارت نے انہیں پدم شری (2005) اور پدم بھوشن (2019) جیسے اعلیٰ سول اعزازات سے نوازا۔ کسی غیر ملکی صحافی کے لیے یہ اعزازات ان کی غیر معمولی قبولیت اور احترام کا واضح ثبوت تھے۔

سر مارک ٹلی کے انتقال پر عالمی سطح پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغام میں کہا کہ سر مارک ٹلی نے بھارت کو گہرائی سے سمجھا اور اس کی اصل تصویر دنیا کے سامنے پیش کی، ان کی وفات سے صحافت کا ایک عظیم باب ختم ہو گیا۔ بی بی سی نے بھی انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسے ’’پائینئر‘‘ تھے جنہوں نے بھارت کی صحافتی کوریج کو نئی جہت دی۔

سر مارک ٹلی کی وفات سے نہ صرف برطانوی صحافت بلکہ بھارت اور پورے جنوبی ایشیا کی صحافتی برادری ایک عظیم آواز سے محروم ہو گئی ہے۔ وہ غیر جانبداری، دیانت اور انسانی ہمدردی کے ساتھ سچ بیان کرنے کی ایک روشن مثال کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے