ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) ممتاز مذہبی اسکالر مولانا مسعود الحسن غضنفر نے کہا ہے کہ دینِ اسلام میں سب سے سنگین جرم شرک ہے جبکہ اس کے بعد حقوق العباد میں کوتاہی ایسا گناہ ہے جس پر قیامت کے روز سخت پوچھ گچھ ہوگی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق تو اپنی مشیت سے معاف فرما سکتے ہیں، مگر بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہوں گے جب تک مظلوم خود معاف نہ کرے۔
مولانا مسعود الحسن غضنفر نے اپنے خطاب میں قرآن کریم کی آیت "اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ” (سورۃ النساء: 48) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے واضح اعلان فرمایا ہے کہ شرک کو معاف نہیں کیا جائے گا، البتہ اس کے علاوہ دیگر گناہوں کو وہ جس کے لیے چاہیں معاف کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص بغیر توبہ کے شرک کی حالت میں دنیا سے چلا جائے تو اس کے لیے سخت وعید ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سورۃ لقمان میں اللہ تعالیٰ نے شرک کو "ظلم عظیم” قرار دیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا سب سے بڑا ظلم ہے۔
مولانا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گناہوں کی دو بڑی اقسام ہیں: حقوق اللہ اور حقوق العباد۔ نماز، روزہ، حج اور دیگر عبادات حقوق اللہ میں شامل ہیں، جن کے بارے میں امید ہے کہ سچی توبہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ معاف فرما دیں گے۔ تاہم بندوں کے جان، مال اور عزت سے متعلق معاملات حقوق العباد میں آتے ہیں اور ان میں کوتاہی کا حساب انتہائی سخت ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض لوگ عبادات کی ادائیگی کو کافی سمجھتے ہیں لیکن اگر وہ دوسروں کا حق مار رہے ہیں، جھوٹ، غیبت، الزام تراشی یا مالی بددیانتی کے مرتکب ہو رہے ہیں تو یہ طرزِ عمل نجات کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔
مولانا مسعود الحسن غضنفر نے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا جس کے ذمہ کسی بھائی کا حق ہو وہ قیامت سے پہلے دنیا ہی میں معاف کرا لے، کیونکہ آخرت میں نہ دینار ہوگا نہ درہم بلکہ نیکیاں اور گناہ منتقل ہوں گے۔
انہوں نے مفلس والی حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن کچھ لوگ نماز، روزہ اور زکوٰۃ کے باوجود اس لیے خسارے میں ہوں گے کہ انہوں نے دوسروں پر ظلم کیا ہوگا، گالیاں دی ہوں گی، تہمت لگائی ہوگی یا کسی کا مال ناحق کھایا ہوگا، چنانچہ ان کی نیکیاں مظلوموں میں تقسیم کر دی جائیں گی۔
خطاب کے اختتام پر مولانا نے زور دیا کہ ہر مسلمان خالص توحید اختیار کرے، شرک کی ہر شکل سے بچے اور اگر کسی کا حق مارا ہے تو فوری طور پر ادا کرے یا معافی طلب کرے۔ انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن کامیابی کا دارومدار درست عقیدہ اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی پر ہوگا۔
انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو شرک سے محفوظ رکھے اور حقوق العباد کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔