رینالہ خورد(کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار لیاقت علی) جامعہ اوکاڑہ میں جرمن آرٹسٹ اور معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر سینٹا سلر کی خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی امتیاز کے خاتمے کے لیے انجام دی گئی گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک پروقار سیمینار منعقد کیا گیا۔ ڈائریکٹوریٹ آف ایکسٹرنل لنکیجز اور ڈائریکٹوریٹ آف پبلک ریلیشنز کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس تقریب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین، سول سوسائٹی کے نمائندوں، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ڈاکٹر سینٹا سلر ان دنوں اپنے شوہر پروفیسر ڈاکٹر نوربرٹ پنٹسچ کے ہمراہ پاکستان کے دورے پر ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے ڈاکٹر سلر کی زندگی بھر کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اوکاڑہ کے دور افتادہ گاؤں ٹھٹھہ غلامکا ڈیروکا میں خواتین کو فنی مہارتیں سکھا کر انہیں معاشی طور پر خود مختار بنانے میں مثالی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے تعلیم کو معاشرتی ترقی کے لیے بہترین سرمایہ کاری قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ جامعہ اوکاڑہ کے زیرِ تعمیر گرلز ہاسٹل کو ڈاکٹر سینٹا سلر کے نام سے منسوب کیا جائے گا، جو ان کی خدمات کا دائمی اعتراف ہوگا۔
ماہرِ تعلیم امجد علی نے 1990 کی دہائی میں ڈاکٹر سلر کے شروع کردہ منصوبے "ٹھٹھہ کیڈونا” پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس پروجیکٹ نے ہزاروں دیہی خواتین کی زندگیوں میں انقلاب برپا کیا ہے۔ ڈاکٹر سینٹا سلر نے اپنے کلیدی خطاب میں ان محرکات پر روشنی ڈالی جنہوں نے انہیں انسانیت کی خدمت کے لیے متحرک کیا۔ تقریب سے پروفیسر ڈاکٹر نوربرٹ پنٹسچ، معروف سماجی کارکن اسلم طاہر القادری اور زرعی رہنما چوہدری مقصود احمد جٹ نے بھی خطاب کیا، جبکہ نظامت کے فرائض ڈپٹی ڈائریکٹر شرجیل احمد نے سرانجام دیے۔