اوچ شریف (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگارحبیب خان) اوچ شریف کے نواحی علاقے رسول پور پل پنجند کے مقام پر ہیڈ پنجند کینال سے ریت نکالنے والے مافیا نے مبینہ طور پر محکمہ انہار اور محکمہ معدنیات (مائنز اینڈ منرلز) کی سرپرستی میں ڈیرے جما لیے ہیں، جہاں دن رات بھاری مشینری اور ڈمپرز کے ذریعے سرکاری وسائل کی لوٹ مار کا سلسلہ عروج پر ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق ریت کی اس غیر قانونی نکاسی سے جہاں قومی خزانے کو روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے، وہاں نہری پشتوں اور آبپاشی کے ڈھانچے کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریت چونکہ محکمہ مائنز اینڈ منرلز کے دائرہ اختیار میں آتی ہے، اس لیے اتنے بڑے پیمانے پر ٹریکٹر ٹرالیوں اور مشینری کا استعمال دونوں متعلقہ محکموں کے مقامی افسران کی چشم پوشی یا مبینہ ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں، جس سے ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
مقامی شہریوں اور عوامی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بااثر ریت مافیا نے کینال کے مختلف حصوں کو اپنی چراگاہ بنا رکھا ہے اور متعلقہ محکموں کے ذمہ داران خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جو کہ اختیارات کے ناجائز استعمال اور مجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عوامی حلقوں میں اس بات پر شدید تشویش پائی جاتی ہے کہ سرکاری رائلٹی کی چوری کے ساتھ ساتھ نہر کے حفاظتی بندوں کو بھی کمزور کیا جا رہا ہے، جو مستقبل میں کسی بھی سیلابی صورتحال یا پانی کے زیادہ بہاؤ کی صورت میں پورے علاقے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نہروں سے بے دریغ ریت نکالنے سے پانی کی سطح اور بہاؤ کا توازن بگڑ جاتا ہے، جس کا براہِ راست خمیازہ ٹیل کے کاشتکاروں کو پانی کی قلت اور زرعی نقصانات کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔
علاقہ مکینوں، کسان رہنماؤں اور سماجی تنظیموں نے اس سنگین صورتحال پر کمشنر بہاولپور، سیکرٹری معدنیات اور سیکرٹری انہار پنجاب سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ریت مافیا کے خلاف فوری گرینڈ آپریشن کیا جائے اور ان کی پشت پناہی کرنے والے محکمہ انہار اور محکمہ معدنیات کے کالی بھیڑوں جیسے اہلکاروں کے خلاف اینٹی کرپشن قوانین کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اگر سرکاری وسائل کی اس کھلی لوٹ مار کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو وہ احتجاجاً سڑکوں پر نکلنے اور قانونی چارہ جوئی کرنے پر مجبور ہوں گے، کیونکہ یہ نہ صرف معاشی کرپشن ہے بلکہ علاقے کے نہری نظام اور زراعت کو دانستہ طور پر تباہ کرنے کی ایک منظم سازش ہے۔