ماسکو (کیو این این ورلڈ) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے عالمی سیاسی منظرنامے پر جاری کشیدگی اور مغربی ممالک کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ طاقت کے زور پر دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کا دور اب ختم ہونا چاہیے اور انسانیت کی بقا کے لیے عالمی سلامتی کے ڈھانچے کو نئی بنیادوں پر استوار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ ماسکو کے کریملن پیلس میں غیر ملکی سفیروں کی اسناد پیش کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر نے انتہائی سخت اور دو ٹوک لہجے میں کہا کہ دنیا میں سفارت کاری اور مکالمے کو جان بوجھ کر پسِ پشت ڈالا جا رہا ہے، جبکہ بعض ممالک خود کو دوسروں کا فیصلہ ساز سمجھ کر یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ انہیں کیسے جینا ہے اور کون سے فیصلے کرنے ہیں۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ روس ایک کثیر قطبی دنیا کے نظریے پر یقین رکھتا ہے اور کسی بھی ایسے یکطرفہ عالمی نظام کو تسلیم نہیں کرے گا جہاں بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہوں۔

صدر پیوٹن نے اپنے خطاب میں مزید زور دے کر کہا کہ عالمی سلامتی کسی ایک ملک کی قیمت پر دوسرے کو فراہم نہیں کی جا سکتی اور جو ممالک اس بنیادی اصول سے انحراف کر رہے ہیں وہ عالمی استحکام کو نقصان پہنچانے کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے یاد دہانی کرائی کہ روس نے ماضی میں یورپی اور عالمی سلامتی کے حوالے سے کئی اہم تجاویز پیش کی تھیں، جنہیں اس وقت نظرانداز کیا گیا، لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ان پر دوبارہ سنجیدہ اور بامقصد بات چیت کا آغاز کیا جائے تاکہ یوکرین جیسے تنازعات کا مستقل سیاسی حل نکالا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کا منشور آج بھی عالمی امن کی ضمانت ہے اور اس کے مرکزی کردار کو بحال کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ بین الاقوامی قانون پر عمل درآمد ہی دنیا کو مزید منصفانہ بنا سکتا ہے۔

یوکرین بحران کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے اسے نیٹو کے روسی سرحدوں تک پھیلاؤ اور روس کے جائز سکیورٹی خدشات کو مسلسل نظر انداز کرنے کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ روس اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جائے گا اور اپنے طے شدہ مقاصد کے حصول کے لیے ثابت قدم رہے گا۔ اگرچہ روس دیرپا امن کا خواہاں ہے، لیکن کیف اور اس کے حامی دارالحکومتوں میں ابھی تک ایسی کوئی آمادگی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ یورپی ممالک کے ساتھ تعلقات کی موجودہ صورتحال انتہائی ناگفتہ بہ ہے، تاہم روس باہمی احترام اور فائدے کی بنیاد پر ہر ملک کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔ تقریب کے اختتام پر انہوں نے کیوبا کے ساتھ روسی یکجہتی کا اعادہ کیا اور افغانستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون سمیت جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی امید ظاہر کرتے ہوئے اپنی خارجہ پالیسی کو توازن اور تعمیری سوچ کا آئینہ دار قرار دیا۔

یاد رہے کہ اس باوقار تقریب کے دوران پاکستان کے نئے تعینات ہونے والے سفیر فیصل نیاز ترمذی نے بھی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو اپنی سفارتی اسناد پیش کیں۔ اس موقع پر صدر پیوٹن نے پاکستان کو روس کا قریبی شراکت دار قرار دیتے ہوئے دو طرفہ تعاون میں اضافے پر اطمینان کا اظہار کیا اور تجارت، تعلیم، زراعت اور آئی ٹی سمیت مختلف شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے