ماسکو (کیو این این ورلڈ)روس کی حکومت نے فوجداری ریکارڈ رکھنے والے غیر ملکیوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے شہریت اور رہائشی اجازت ناموں سے متعلق قوانین مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ روسی حکومت کی قانون ساز کمیشن نے ایک اہم بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت ایسے غیر ملکی شہریوں کو روسی شہریت، عارضی رہائش یا مستقل رہائشی اجازت نامہ دینے سے روکا جائے گا جن کا فوجداری ریکارڈ برقرار ہو یا جن کے خلاف کسی بھی نوعیت کے مقدمات زیرِ التواء ہوں۔
کمیشن کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات کے مطابق اس بل کے ذریعے روس کے شہریت سے متعلق قوانین میں باقاعدہ ترمیم کی جائے گی۔ مجوزہ قانون کے تحت وہ تمام غیر ملکی شہری روسی شہریت یا رہائش کے اہل نہیں ہوں گے جن پر روس یا کسی دوسرے ملک میں ناقابلِ معافی جرائم ثابت ہو چکے ہوں یا جن کے خلاف عدالتی کارروائی تاحال جاری ہو، چاہے جرم کی نوعیت معمولی ہی کیوں نہ ہو۔
بل میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ اگر کسی غیر ملکی کو پہلے ہی روسی شہریت یا عارضی و مستقل رہائشی اجازت نامہ جاری کیا جا چکا ہو، اور بعد ازاں اس کے خلاف کوئی سنگین یا ناقابلِ معافی فوجداری مقدمہ سامنے آ جائے یا کوئی کیس زیر سماعت ہو، تو ایسے فرد کے جاری کردہ شہریت یا رہائشی دستاویزات منسوخ کیے جا سکیں گے۔ تاہم واضح کیا گیا ہے کہ یہ قانون ماضی میں جاری ہونے والے دستاویزات پر اطلاق نہیں کرے گا، جب تک نیا جرم یا مقدمہ سامنے نہ آئے۔
روسی حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کا مقصد ملک کے اندر قانونی، عدالتی اور سیکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے، تاکہ ایسے افراد کو روس میں مستقل قیام یا شہریت حاصل کرنے سے روکا جا سکے جو ماضی میں قانون شکنی کے مرتکب رہے ہوں یا جن پر فوجداری الزامات عائد ہوں۔
حکام کے مطابق یہ اقدام قومی سلامتی، سماجی استحکام اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر سمجھا جا رہا ہے، جبکہ اس بل کو جلد پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے، جہاں منظوری کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کر لے گا۔