روجھان (کیو این این ورلڈ) جنوبی پنجاب کے کچے کے علاقوں میں پنجاب پولیس کا ڈاکوؤں کے خلاف بڑا آپریشن جاری ہے، جس کے دوران ڈاکوؤں کے ٹھکانوں اور بنکرز پر ڈرون سے گولہ باری کی جا رہی ہے، جس کے باعث ایک اور بڑی تعداد میں مجرمان نے پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

پولیس حکام کے مطابق مورخہ 27 جنوری 2026 تک 98 مزید ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا ہے، جن میں متعدد انتہائی مطلوب گینگز کے اراکین شامل ہیں۔

ڈی پی او کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سرنڈر کرنے والوں میں بدنام زمانہ ڈاکو، سبز علی عمرانی بھی شامل ہے، جس کے سر کی قیمت ایک کروڑ روپے مقرر تھی۔ اب تک ایسے سات ڈاکو جن پر ایک کروڑ روپے سر کی انعامی رقم تھی، پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں۔

پولیس کے مطابق گرفتار ڈاکو اغوا، قتل، ڈکیتی اور دیگر سنگین جرائم کے درجنوں مقدمات میں مطلوب تھے، اور آپریشن کے دباؤ اور ڈرون سے گولہ باری کے باعث مجرمان ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

یہ آپریشن راجن پور پولیس کی قیادت میں کچے کے مختلف علاقوں میں جاری ہے، جہاں پولیس نے ڈرون ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ زمینی کارروائیوں کو بھی بڑھا دیا ہے تاکہ جرائم پیشہ عناصر کو پکڑا جا سکے۔

پولیس نے بتایا کہ مجموعی طور پر ایکٹیو آپریشن کے 11 روز کے دوران 309 ڈاکوؤں نے سرنڈر کیا ہے، جن میں سے متعدد بڑے گینگز کے رکن ہیں۔

آپریشن میں گرفتار کیے گئے مجرمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی، جبکہ ڈاکوؤں کے 33 ٹھکانوں اور بنکرز کو تباہ کر دیا گیا ہے تاکہ وہ دوبارہ کسی قسم کی مجرمانہ سرگرمی انجام نہ دے سکیں۔

پولیس حکام نے کہا ہے کہ آپریشن کا مقصد کچے کے علاقوں میں قانون اور نظام کی بحالی ہے، جہاں طویل عرصے سے ڈاکوؤں کی موجودگی کے باعث امن و امان بری طرح متاثر رہا ہے۔ ڈرون کی مدد سے کی جانے والی گولہ باری اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے مجرمان پر دباؤ بڑھا ہے اور بہت سے خطرناک عناصر خود کو قانون کے سپرد کر رہے ہیں۔

پولیس کے مطابق ایسے حالات میں بھی فائرنگ کے تبادلے اور جھڑپیں ان علاقوں میں جاری ہیں، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے تمام مطلوبہ مجرمان کو پکڑنے اور سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے آپریشن کو مزید تیز کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے