رینالہ خورد (نامہ نگار) نواحی علاقے چک نمبر 26 ون اے ایل میں مبینہ طور پر زبردستی اسقاط حمل کی ادویات دیے جانے کے باعث ایک خاتون جاں بحق ہو گئی۔ واقعے کا مقدمہ تھانہ شیرگڑھ پولیس نے متوفیہ کے بھائی کی مدعیت میں پانچ ملزمان کے خلاف درج کر لیا ہے۔

پولیس کے مطابق متوفیہ آسیہ بی بی کے بھائی آمانت علی نے درج کرائے گئے مقدمے میں مؤقف اختیار کیا کہ اس کی بہن کی شادی تقریباً دس سال قبل لیاقت علی سے ہوئی تھی اور ان کے ہاں تین بچے پیدا ہوئے۔ کچھ عرصہ قبل گھریلو ناچاقی کے باعث آسیہ بی بی اپنے شوہر سے علیحدہ رہنے لگی اور اس نے عدالت میں خرچہ کا دعویٰ دائر کیا جس پر عدالت نے اس کے حق میں ڈگری جاری کی۔

مدعی کے مطابق اسی دوران آسیہ بی بی کے مبینہ طور پر دیہہ کے رہائشی کاظم علی کے ساتھ تعلقات استوار ہو گئے جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہو گئی۔ الزام ہے کہ بدنامی سے بچنے کے لیے کاظم علی نے مبینہ طور پر آسیہ بی بی کے شوہر لیاقت علی سے مل کر اسے اسقاط حمل کی ادویات کھلا دیں۔

مقدمے میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ ادویات کے استعمال کے بعد آسیہ بی بی کی حالت بگڑ گئی اور وہ دم توڑ گئی۔ واقعے کے بعد اہل خانہ میں کہرام مچ گیا اور علاقہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

تھانہ شیرگڑھ پولیس نے آمانت علی کی مدعیت میں شوہر لیاقت علی، کاظم علی، خادم حسین اور دو نامعلوم افراد سمیت پانچ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے