رینالہ خورد (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار)رینالہ خورد میں جاری ڈرینوں کی تعمیر کے دوران ناقص میٹریل کے استعمال اور بنیادوں (بیڈز) کی غیر معیاری کمپیکشن کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے باعث نہ صرف قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے بلکہ مستقبل میں کروڑوں روپے مالیت کی تجارتی عمارتوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب کی ضلعی و تحصیل انتظامیہ کی جانب سے شہروں میں بیوٹیفیکیشن منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت بازاروں میں ڈرینوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے۔ رینالہ خورد کے مصروف ترین علاقوں صدر بازار، پھاٹک بازار اور گوشت مارکیٹ میں بھی ڈرینوں کی تعمیر جاری ہے۔ تاہم شہریوں اور تاجروں کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں اور ٹھیکیداروں کی مبینہ ملی بھگت سے ڈرینوں کے بیڈز کی کمپیکشن مناسب طریقے سے نہیں کی جا رہی اور تعمیر میں مبینہ طور پر ناقص میٹریل استعمال کیا جا رہا ہے۔

شہری حلقوں کے مطابق غیر معیاری تعمیر کے باعث ڈرینوں میں بہنے والا سیوریج اور بارشی پانی مستقبل میں ڈرینوں کے کناروں پر واقع دکانوں اور عمارتوں کی بنیادوں کو کمزور کر سکتا ہے، جس سے بڑے مالی نقصانات اور حادثات کا خدشہ بڑھ جائے گا۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اصلاح نہ کی گئی تو یہ مسئلہ آنے والے وقت میں ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

تاجروں اور شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، کمشنر ساہیوال، اینٹی کرپشن، ڈپٹی کمشنر اوکاڑہ اور اسسٹنٹ کمشنر رینالہ خورد سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی فوری تحقیقات کر کے ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور ڈرینوں کی تعمیر کو معیاری اصولوں کے مطابق یقینی بنایا جائے تاکہ شہر اور شہریوں کو ممکنہ نقصانات سے بچایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے