پشاور(ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف حالیہ عدالتی فیصلے پر اپنے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ حکمرانوں کو خبردار کیا ہے کہ اقتدار کے نشے میں مست افراد یہ بھول جائیں کہ وہ کل کی پکڑ سے بچ پائیں گے۔ انہوں نے قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ان کے قائد کے خلاف جو فیصلہ سنایا گیا ہے وہ سراسر ناانصافی پر مبنی ہے اور تاریخ ایسے فیصلوں کو کبھی قبول نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ طاقت کے زور پر آواز دبا لے گی لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوگا اور ہر آنے والا کل پچھلے دور کا حساب مانگے گا۔

سہیل آفریدی نے ملکی عدالتی نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے مزید کہا کہ بدقسمتی سے ہماری عدالتیں فیصلے تو صادر کر رہی ہیں مگر ان فیصلوں میں انصاف کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ انہوں نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ان ترامیم کے ڈھونگ سے پہلے بھی انصاف فراہم نہیں کیا جا رہا تھا کیونکہ ملکی ادارے اور جمہوری ڈھانچہ مفلوج ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ شفافیت کی بات کی اور بائیومیٹرک نظام کے ذریعے انتخابات کا مطالبہ کیا تاکہ دھاندلی زدہ نظام سے نجات مل سکے، مگر آج انہیں ہی دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ سیاسی انتقام کی بنیاد پر کیے گئے فیصلے ملک کو مزید انتشار کی طرف دھکیل رہے ہیں اور عوام کا نظامِ عدل سے اعتماد اٹھتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اداروں کی آزادی اور شفافیت کو یقینی نہیں بنایا جاتا، تب تک کوئی بھی آئینی ترمیم ملک کے مسائل کا حل ثابت نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اس ناانصافی کے خلاف ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھیں گے اور اپنے لیڈر کے حقوق کے تحفظ کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے