میرپور ماتھیلو (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) مقتول ابرار کولاچی کے قتل کے خلاف ان کے قریبی رشتہ داروں اور اہلخانہ نے ایس ایس پی آفس کے سامنے شدید احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں خواتین بھی بڑی تعداد میں شریک تھیں۔ احتجاج کے دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں قرآن پاک اٹھا کر نعرے بازی کی اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ کیس کی شفاف اور منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابرار کولاچی کے رشتہ داروں نے الزام عائد کیا کہ وہ اصل قاتل ‘بھاءُ کوڑا کولاچی’ کو بے نقاب کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ پولیس اصل حقائق چھپا کر بے گناہ افراد کو اس مقدمے میں غلط طور پر ملوث کرنے کی کوشش کر رہی ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ عدالت اور پولیس اس حساس معاملے میں کسی قسم کی جانبداری نہ برتیں اور حقیقی ملزم کو قانون کے کٹہرے میں لا کر کڑی سزا دی جائے جبکہ بے گناہوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ فوری بند کیا جائے۔ احتجاج میں شریک خواتین نے انتہائی جذباتی انداز میں انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں صرف اور صرف انصاف چاہیے تاکہ مقتول کے خون سے ناانصافی نہ ہو۔ مظاہرین نے دوٹوک الفاظ میں تنبیہ کی کہ اگر حقائق منظر عام پر نہ لائے گئے اور اصل قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ کار وسیع کر دیا جائے گا اور انصاف کے حصول کے لیے تمام قانونی و آئینی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔ مقامی سطح پر اس احتجاج کو انصاف کی فراہمی کے لیے ایک اہم تحریک کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے