راجن پور (ویب ڈیسک) پنجاب اور سندھ پولیس نے کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف ایک بڑا مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے جرائم پیشہ عناصر کے 17 ٹھکانوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے، جبکہ اس دوران مغوی ہونے کا ڈرامہ رچانے والے ڈاکوؤں کے سہولت کار ڈاکٹر اور ڈسپنسر کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ڈی پی او راجن پور محمد عمران کے مطابق، گزشتہ رات کیے گئے اس آپریشن میں پولیس نے کچے کے دشوار گزار راستوں پر پیش قدمی کرتے ہوئے ڈاکوؤں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا، جس میں راکٹ لانچر، اینٹی ایئر کرافٹ گنز اور آر پی جیز شامل ہیں۔ اس کارروائی کے دوران 5 ایسے افراد کو بھی تحویل میں لیا گیا جن کے بارے میں ابتدائی طور پر بازیاب ہونے والے مغویوں کا گمان کیا جا رہا تھا، تاہم تفتیش کے بعد سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے۔

ایس ایس پی انور کھیتران نے میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ کچے سے بازیاب کرائے گئے ڈاکٹر اور ڈسپنسر درحقیقت مغوی نہیں تھے بلکہ وہ ایک عرصے سے ڈاکوؤں کے سہولت کار کے طور پر کام کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ دونوں افراد ڈاکوؤں کے خفیہ ٹھکانوں پر ان کا علاج معالجہ کرنے میں مصروف تھے اور پولیس کی گرفت سے بچنے کے لیے انہوں نے مغوی ہونے کا ڈرامہ رچایا ہوا تھا۔ انور کھیتران کا مزید کہنا تھا کہ گرفتار ڈاکٹر اور ڈسپنسر کا تعلق صادق آباد کے علاقے نواز آباد سے ہے، اور یہ دونوں پولیس آپریشن کے دوران کیے جانے والے ڈرون حملے میں زخمی بھی ہوئے ہیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کچے میں ڈاکوؤں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے اور مشترکہ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک علاقے کو ان شر پسند عناصر سے مکمل طور پر پاک نہیں کر دیا جاتا۔ ڈاکٹر اور ڈسپنسر کی گرفتاری کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس سے ڈاکوؤں کے طبی معاونت کے نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ پولیس نے گرفتار ملزمان کے خلاف دہشت گردی اور ڈاکوؤں کی معاونت کی دفعات کے تحت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ کچے کے مختلف علاقوں میں مفرور ڈاکوؤں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن مزید تیز کر دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے