کوئٹہ: خاتون خودکش بمبار گرفتار، بڑی تباہی ٹل گئی

کوئٹہ (کیو این این ورلڈ) بلوچستان میں سکیورٹی فورسز نے بروقت اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے ایک بڑے دہشتگرد منصوبے کو ناکام بنا دیا، کارروائی کے دوران خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کر لیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ آپریشن خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں ممکنہ بڑی تباہی ٹل گئی اور قیمتی انسانی جانیں محفوظ رہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا لانگو نے دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ سکیورٹی اداروں نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک حساس کارروائی میں خاتون خودکش بمبار کو حراست میں لیا۔ انہوں نے اس کامیاب آپریشن کو صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا اور سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہا۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ گرفتار خاتون کا تعلق ضلع خضدار سے ہے اور اسے دہشتگرد عناصر کی جانب سے خودکش حملے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگرد تنظیمیں خواتین کو استعمال کرکے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانا چاہتی ہیں، تاہم سکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی نے ان کے ناپاک عزائم ناکام بنا دیے۔

گرفتار خاتون، جس کی شناخت لائبہ کے نام سے ہوئی، نے میڈیا کے سامنے بیان دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ اسے شدت پسند عناصر نے ذہنی طور پر تیار کیا اور خودکش مشن کے لیے آمادہ کیا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ اسے نہ صرف حملہ کرنے بلکہ دیگر لڑکیوں کو بھی اس مقصد کے لیے تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ اس موقع پر اس نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی صورت ایسے عناصر کے بہکاوے میں نہ آئیں۔

حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزمہ کالعدم تنظیم بی ایل اے سے منسلک رہی اور مختلف شدت پسند کمانڈرز سے رابطے میں تھی۔ مزید یہ کہ اس کے بعض دیگر نیٹ ورکس سے روابط کے شواہد بھی ملے ہیں، جن کی بنیاد پر تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے حکومت تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے اور سکیورٹی ادارے ہمہ وقت متحرک ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے عوام اب دہشتگردی کو مسترد کر چکے ہیں اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگرد عناصر بلوچ خواتین اور نوجوانوں کو گمراہ کر کے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، تاہم ریاست اس عمل کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گی۔ سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ خواتین سے متعلق حساس معاملات کو لیڈیز پولیس کے ذریعے ہینڈل کیا جائے گا تاکہ ان کے حقوق اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ سکیورٹی اداروں کو حالیہ عرصے میں ہیومن انٹیلیجنس کے ذریعے اہم معلومات موصول ہو رہی ہیں، جس کے باعث دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف مؤثر کارروائیاں ممکن ہو رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو شدت پسندی سے دور رکھنے کے لیے تعلیم، روزگار اور کمیونٹی پروگرامز پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، جبکہ عوامی آگاہی مہم کے ذریعے معاشرے میں امن، برداشت اور قانون کی پاسداری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔

آخر میں انہوں نے سکیورٹی فورسز کو کامیاب کارروائی پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بدولت صوبے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے