ریاض میں تعینات میاں بیوی کی ایک ساتھ چھٹی اور ویلفیئر اتاشیوں کی مدت ختم ہونے کے باوجود تعیناتی پر قائمہ کمیٹی نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دے دیا ہے۔ اجلاس میں انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں 5 فیصد اضافہ ہوا ہے، تاہم گلف ممالک میں بھارتی اتاشیوں کے مقابلے میں پاکستانی افسران کی تعداد انتہائی کم ہے۔ چیئرمین آغا رفیع اللہ نے ایئرپورٹس پر شکایتی ڈیسک کی عدم موجودگی پر ایف آئی اے حکام کی سرزنش کی اور بیرون ملک ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے حوالے سے ویلفیئر اتاشیوں سے عملی پیش رفت کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز کا اجلاس چیئرمین آغا رفیع اللہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں برس بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کی تعداد میں 5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں ایف آئی اے، بیرون ملک روانگی کے قواعد اور ایئرپورٹس پر سہولتوں سمیت گلف ممالک میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ایف آئی اے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مسافروں کی روانگی سے متعلق نئے رولز تیار کر لیے گئے ہیں جو منظوری کے لیے سی سی ایل سی کے پاس موجود ہیں، جبکہ ایئرپورٹس پر مسافروں کی رہنمائی کے لیے سہولت ڈیسک بھی قائم کیے گئے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی آغا رفیع اللہ نے ان سہولت ڈیسک کی موجودگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت دی کہ ہر ایئرپورٹ کاؤنٹر پر اردو میں واضح تحریر آویزاں کی جائے کہ اگر کسی مسافر کو آف لوڈ کیا جائے تو وہ اپنی شکایت کہاں درج کروا سکتا ہے تاکہ عوام کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اجلاس کے دوران گلف ممالک میں تعینات کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کی کارکردگی اور ان کی تعیناتی کے طریقہ کار پر سخت بحث کی گئی۔ رکن کمیٹی مہرین رزاق بھٹو نے نشاندہی کی کہ ریاض میں تعینات میاں بیوی، جو دونوں ویلفیئر اتاشی ہیں، ایک ساتھ چھٹی پر ہیں اور کئی اتاشی اپنی مدت ملازمت ختم ہونے کے 8 ماہ بعد بھی عہدوں پر براجمان ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کروڑوں روپے کے اخراجات کے باوجود اکثر سفارشی اتاشی "وائسرائے” بنے ہوئے ہیں اور وہ کام نہیں کر رہے جو ان کے ذمے ہے۔ اس پر سیکرٹری سمندر پار پاکستانیز نے وضاحت کی کہ یہ بھرتیاں میرٹ پر ٹیسٹ کے ذریعے ہوتی ہیں اور نئے افسران کی تعیناتی تک موجودہ افسران کام جاری رکھتے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کمیٹی کو صرف معلومات نہیں بلکہ عملی پیش رفت چاہیے اور یہ واضح کیا جائے کہ ان اتاشیوں نے اب تک کتنے پاکستانیوں کو بیرون ملک ملازمتیں دلوانے میں مدد فراہم کی ہے۔

حکام نے کمیٹی کو مزید بتایا کہ سعودی عرب کے شہروں جدہ اور ریاض میں بھارت کے 26 ویلفیئر اتاشی تعینات ہیں جبکہ پاکستان کے صرف 6 افسران خدمات انجام دے رہے ہیں، جس پر آغا رفیع اللہ نے مزید اسامیوں کے لیے وزیراعظم اور کابینہ کو خط لکھنے کی ہدایت دی۔ حکام کا کہنا تھا کہ ویلفیئر اتاشیوں کے ٹی او آرز کے مطابق ان کا 60 فیصد کام ملازمتوں کے مواقع تلاش کرنا اور 40 فیصد فلاحی امور سے متعلق ہوتا ہے، جبکہ سعودی عرب میں مزید 11 اتاشیوں کی تعیناتی کے لیے سمری پہلے ہی ارسال کی جا چکی ہے۔ کمیٹی نے قطر اور دیگر ممالک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات کے بجائے وہاں بھرتی کیے گئے پاکستانیوں کی اصل تعداد طلب کرتے ہوئے ویلفیئر اتاشیوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا حکم دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے