لاہور (کیو این این ورلڈ) وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں صوبے کے سرکاری ہسپتالوں کے نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانے اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ اجلاس میں ہسپتالوں کے سکیورٹی گارڈز، وارڈ بوائز، نرسز اور فارمیسی اسٹاف کو دورانِ ڈیوٹی باڈی کیم لگانے کی اصولی منظوری دے دی گئی ہے تاکہ ان کی کارکردگی اور مریضوں کے ساتھ برتاؤ کی نگرانی کی جا سکے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کے لیے دورانِ ڈیوٹی موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی لگانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے تاکہ طبی عملہ پوری توجہ کے ساتھ مریضوں کی دیکھ بھال کر سکے۔

اجلاس کے دوران سرکاری ہسپتالوں کو جدید طبی آلات سے لیس کرنے کے لیے چینی ساختہ مشینری کی خریداری کی اجازت دی گئی، جبکہ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ سرکاری ہسپتالوں کے عملے کی تنخواہوں میں اضافہ اب صرف بہترین کارکردگی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے ادویات کی فراہمی کے حوالے سے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ادویات کے لیے 80 ارب روپے فراہم کر رہی ہے، اس کے باوجود مریضوں کو ادویات نہ ملنا ناقابلِ فہم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے اور وقت کا ضیاع کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا اور نااہل و کام چور ملازمین کو گھر جانا ہو گا۔ وزیر اعلیٰ کا مزید کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں اصلاحات کا مقصد شہریوں کو علاج معالجے کی بہترین اور جدید ترین سہولیات ان کی دہلیز پر فراہم کرنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے