لاہور: (کیو این این ورلڈ)پنجاب حکومت نے سال 2026 کے پہلے روز انتظامی اصلاحات کی جانب بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 9 اہم سرکاری محکموں کو ختم کرنے کا باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کے تحت ان تمام محکموں کو اب ایک نئے تشکیل شدہ محکمے "فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن” میں ضم کر دیا گیا ہے۔ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، یہ نیا محکمہ فوری طور پر فعال ہوگا اور تمام ضم شدہ اداروں کا انتظام اب ایک ہی سیکرٹری اور ایک ہی ڈائریکٹر جنرل (DG) کے سپرد ہوگا، جس کا مقصد انتظامی ڈھانچے کو مختصر اور موثر بنانا ہے۔

نوٹیفیکیشن کے مطابق جن اداروں کو ختم کر کے فوڈ سیفٹی اینڈ کنزیومر پروٹیکشن کے ماتحت کیا گیا ہے، ان میں پنجاب فوڈ اتھارٹی، انفورسمنٹ پرائس اینڈ کنٹرول، کین کمشنر، ایگریکلچر اکنامک مارکیٹنگ اور انسٹی ٹیوٹ آف ایگریکلچر مارکیٹنگ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کنزیومر پروٹیکشن کونسل، پنجاب سہولت بازار اتھارٹی، پنجاب حلال ڈویلپمنٹ ایجنسی اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے دیگر متعلقہ شعبوں کو بھی اس نئے نظام کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ اس انضمام کے بعد اب خوراک کی معیار بندی، قیمتوں کی نگرانی اور صارفین کے حقوق کا تحفظ ایک ہی چھتری تلے انجام دیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ "بچت پروگرام” کے تحت کیا ہے تاکہ سرکاری اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور مختلف محکموں کے درمیان ہم آہنگی کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس بڑے انتظامی انقلاب کے نتیجے میں مذکورہ محکموں میں موجود اضافی افسران اور عملے کو دیگر محکموں میں تبدیل یا ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ ماہرینِ انتظام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف سرخ فیتے کا خاتمہ ہوگا بلکہ عوامی مفاد کے منصوبوں پر عملدرآمد کی رفتار بھی تیز ہوگی، کیونکہ اب قیمتوں کے کنٹرول اور خوراک کی حفاظت سے متعلق تمام اختیارات ایک ہی مرکز میں جمع ہو گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے