سماج وادی پارٹی کے رہنما سناتن پانڈے نے مودی سرکار کے جھوٹ کا پردہ چاک کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ 2019 کا پلوامہ حملہ دراصل بی جے پی کی اپنی رچی ہوئی سیاسی سازش اور ایک باقاعدہ ڈرامہ تھا جس کا مقصد انتخابی فوائد حاصل کرنا تھا۔ انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت آج تک یہ بتانے میں ناکام رہی ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والا آر ڈی ایکس کہاں سے آیا، جو کہ مودی حکومت کے مذموم مقاصد اور فالس فلیگ آپریشنز کی تاریخ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بھارتی سیاستدان کے اس سنسنی خیز انکشاف نے جہاں پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی قلعی کھول دی ہے، وہی بھارتی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق بھارتی سیاست میں اس وقت شدید ہیجان برپا ہو گیا ہے جب سماج وادی پارٹی کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ سناتن پانڈے نے مودی سرکار کے جھوٹ کا پردہ چاک کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ 2019 کا پلوامہ حملہ دراصل بی جے پی کا اپنا رچایا ہوا ڈرامہ اور ایک سیاسی سازش تھی۔ اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے بھارتی سیاستدان نے مودی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی 2014 کے انتخابات میں کیے گئے اپنے وعدوں، جیسے کسانوں کی آمدنی دگنی کرنا، مہنگائی کا خاتمہ اور کالا دھن واپس لانا، میں مکمل ناکام رہی ہے، جس کے بعد عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے پلوامہ جیسی خونریز سازش کا سہارا لیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بی جے پی حکومت آج تک پارلیمنٹ کو یہ بتانے میں ناکام رہی ہے کہ اس حملے میں استعمال ہونے والا بھاری مقدار میں آر ڈی ایکس (RDX) کہاں سے آیا، جو کہ مودی سرکار کی اپنی رچی ہوئی سازش کی جانب واضح اشارہ ہے۔
سناتن پانڈے نے مزید انکشاف کیا کہ مودی حکومت اقتدار حاصل کرنے کے لیے فرقہ وارانہ جذبات ابھارنے اور "فالس فلیگ آپریشنز” کرنے کی عادی ہو چکی ہے، جس میں پلوامہ کے علاوہ ممبئی حملے، سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے اور اپریل 2025 میں ہونے والا پہلگام حملہ بھی شامل ہیں۔ یاد رہے کہ 2025 میں پہلگام کے قریب ہونے والے حملے میں 26 شہری ہلاک ہوئے تھے، جس کا الزام مودی سرکار نے روایتی طور پر بغیر کسی ثبوت کے پاکستان پر تھوپ دیا تھا۔ سناتن پانڈے کا کہنا ہے کہ بی جے پی کے پاس ترقی کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے، اس لیے وہ پارلیمنٹ میں غربت اور بے روزگاری پر بات کرنے کے بجائے ایسے ڈرامے رچاتی ہے تاکہ قوم کو جذباتی نعروں کے پیچھے لگایا جا سکے۔ ان کے اس بیان نے بھارتی سیاسی حلقوں میں ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے اور اپوزیشن جماعتوں نے بھی پلوامہ حملے کی تحقیقاتی رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی فورمز پر بھارت کے ان بے بنیاد الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ مودی سرکار اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے اور انتخابی فوائد حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو نشانہ بناتی ہے۔ پاکستانی حکام کا موقف رہا ہے کہ اگر بھارت کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت موجود ہے تو وہ فراہم کرے، تاہم بھارت آج تک پلوامہ یا پہلگام جیسے واقعات کا کوئی ایک بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ماہرینِ سیاست کے مطابق بھارتی سیاستدان کی جانب سے کیا گیا یہ انکشاف نہ صرف بھارت کے اندرونی سیاسی بحران کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس سے مودی سرکار کے اس بیانیے کو بھی شدید زک پہنچی ہے جو وہ عالمی سطح پر پاکستان کے خلاف استعمال کرتی رہی ہے۔