اسلام آباد (ویب ڈیسک) سابق رکن قومی اسمبلی محمود مولوی نے پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ قیادت اور سیاسی حکمتِ عملی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو سب سے پہلے یہ واضح کرنا ہوگا کہ پارٹی کی قیادت محمود خان اچکزئی کر رہے ہیں یا علیمہ خان، اگر علیمہ خان ہی پارٹی کو لیڈ کر رہی ہیں تو انہیں باقاعدہ طور پر چیئرمین بنا دیا جانا چاہیے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے اسیران بھی اب مفاہمت کی بات کر رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلسل مزاحمت کے بجائے اب سیاسی درجہ حرارت کو نیچے لانے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی گزشتہ تین سال سے صرف مزاحمت کی سیاست کر رہی ہے، جبکہ ملک کے وسیع تر مفاد میں تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا چاہیے تاکہ معاملات بہتری کی طرف گامزن ہو سکیں۔
محمود مولوی نے انکشاف کیا کہ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک مقیم تحریک انصاف کے حامی بھی اب مفاہمت کے حق میں ہیں اور اسی سلسلے میں ان کی اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، رانا ثناء اللہ اور اعظم نذیر تارڑ جیسی اہم سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں بھی ہو چکی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی ٹکراؤ سے ملک کو نقصان پہنچ رہا ہے، لہٰذا تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر ایک ایسا راستہ تلاش کرنا چاہیے جس سے ملک میں سیاسی و معاشی استحکام آ سکے۔ محمود مولوی کے مطابق وقت کا تقاضا ہے کہ ذاتی انا اور سیاسی ضد کو بالائے طاق رکھ کر قومی مفاد کو ترجیح دی جائے، کیونکہ مفاہمت ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے موجودہ سیاسی بحران کا خاتمہ ممکن ہے۔