اسلام آباد (کیو این ورلڈ) سابق وفاقی وزیر مشاہد حسین سید نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپنی غلط حکمتِ عملی کے باعث بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے اہم مواقع خود ضائع کر دیئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 5 نومبر 2024 کو پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان مذاکرات کے نتیجے میں یہ طے پایا تھا کہ 22 نومبر کو عمران خان کو رہا کر دیا جائے گا اور سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور بھی اس مبینہ ڈیل کا حصہ تھے۔ تاہم، پارٹی کے اندر موجود انتہا پسند گروپ (ہاکس) نے اس معاہدے کی مخالفت کی اور دعویٰ کیا کہ 26 نومبر کو اسلام آباد میں 10 لاکھ افراد کے احتجاج کے ذریعے عمران خان کو کسی بھی ڈیل کے بغیر چھڑا لیا جائے گا، جس کی وجہ سے یہ سنہری موقع ہاتھ سے نکل گیا۔

مشاہد حسین سید نے مزید دعویٰ کیا کہ یہ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل مئی 2022 میں بھی سابق وزیراعظم میاں نواز شریف ملک میں عام انتخابات کرانے پر آمادہ ہو چکے تھے، لیکن پی ٹی آئی کے اچانک لانگ مارچ نے سیاسی ماحول خراب کر دیا جس کے نتیجے میں انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے اور بالآخر 8 فروری 2024 کو منعقد ہوئے۔ ان کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے بار بار کی جانے والی ان اسٹریٹجک غلطیوں اور زمینی حقائق کو نظر انداز کرنے کے باعث پارٹی کو بڑے سیاسی نقصانات اٹھانا پڑے ہیں۔ ان بیانات کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور پی ٹی آئی کی اندرونی فیصلہ سازی پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے