اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) سینیٹ آف پاکستان نے پاکستان پینل کوڈ (تعزیراتِ پاکستان) میں ترمیم کا ایک اہم بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت جادو ٹونا کرنے اور اس کی تشہیر کو سنگین جرم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس نئی قانون سازی کے ذریعے تعزیراتِ پاکستان میں ایک نئی دفعہ "297 الف” شامل کی گئی ہے، جو خاص طور پر جادو، کالے جادو اور اس سے متعلقہ دیگر افعال کی روک تھام کے لیے بنائی گئی ہے۔ بل کی شقوں کے مطابق جو بھی شخص جادو ٹونا کرنے، اس کی تشہیر کرنے یا روحانی علاج کے لبادے میں ایسے معاملات میں ملوث پایا گیا، اسے 6 ماہ سے لے کر 7 سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ جرم کے مرتکب شخص پر 10 لاکھ روپے تک کا بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔
اس قانون سازی کا مقصد معاشرے میں جادو ٹونے کے نام پر سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے والے عناصر کا خاتمہ اور توہم پرستی کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ سینیٹ کے اسی اجلاس میں ایک اور اہم قانون "وفاقی نصاب اور نصابی کتب سے متعلق بل” بھی منظور کیا گیا، جسے سینیٹر قرۃ العین مری (عینی مری) نے پیش کیا تھا۔ اس بل کا مقصد وفاقی سطح پر تعلیمی معیار کو بہتر بنانا اور نصابی کتب کی تیاری و نگرانی کے عمل کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا ہے۔ ایوانِ بالا سے ان دونوں بلوں کی منظوری کو سماجی اصلاحات اور تعلیمی نظام میں بہتری کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔