پاکستان کے نامور اور سینئر اداکار فیصل قریشی نے اپنی ہی انڈسٹری کے چند فنکاروں اور ناقدین کے رویے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں پوری دنیا پاکستانی ڈراموں کی معترف ہے، وہیں خود پاکستان میں ڈراموں کے ساتھ درست سلوک نہیں کیا جا رہا۔ ایک حالیہ انٹرویو میں پاکستانی ڈراموں کی عالمی مقبولیت پر گفتگو کرتے ہوئے فیصل قریشی نے بتایا کہ پاکستانی چینلز نے متنوع موضوعات پر بہترین کام کیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف پاکستانی عوام اپنے ڈراموں پر فخر محسوس کرتے ہیں بلکہ بنگلہ دیش، بھارت، ترکیہ اور یہاں تک کہ نیپال جیسے ممالک میں بھی ہمارے ڈراموں کو بے حد پسند کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک نیپالی مداح سے اپنی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غیر ملکی شائقین کی پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری سے محبت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا معیار عالمی سطح کا ہے اور لوگ ہماری کہانیوں اور اداکاری سے متاثر ہیں۔
تاہم، سینئر اداکار نے انڈسٹری کے اندرونی حالات پر شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض سینئر فنکار اور ناقدین نجی ٹی وی پروگراموں میں بیٹھ کر ڈراموں پر اس قدر زیادہ تنقید کر رہے ہیں کہ اس سے کام بہتر ہونے کے بجائے خراب ہو رہا ہے۔ فیصل قریشی کا کہنا تھا کہ تعمیری تنقید ضرور ہونی چاہیے کیونکہ اس سے تکنیکی پہلوؤں اور اداکاری میں بہتری آتی ہے، لیکن بلاجواز اور حد سے بڑھی ہوئی تنقید انڈسٹری کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنی کامیابیوں کا تحفظ کرنا چاہیے اور انڈسٹری کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے بجائے اسے مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی سطح پر ملنے والی اس پذیرائی کو برقرار رکھا جا سکے اور پاکستانی ڈرامہ اپنی شناخت کھونے کے بجائے مزید بلندیوں کو چھو سکے۔