سرگودھا(کیو این این ورلڈ)پولیس کے مبینہ دباؤ، بلیک میلنگ اور مسلسل ذہنی اذیت نے ایک غریب میاں بیوی کو زندگی سے ہاتھ دھونے پر مجبور کر دیا۔ ضلع سرگودھا کے نواحی گاؤں میرو والا میں پیش آنے والا یہ دلخراش واقعہ طیبہ اور اس کے شوہر اقبال کی المناک موت پر ختم ہوا، جس نے ایک بار پھر تھانہ کلچر، کمزور طبقات کے ساتھ رویے اور نظامِ انصاف پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تازہ ترین رپورٹس کے مطابق طیبہ اور اقبال کا تعلق اصل میں لاہور سے تھا، جہاں اورنج لائن ٹرین منصوبے کے باعث ان کا گھر مسمار ہوا اور وہ بے گھر ہو گئے۔ حالات نے انہیں سرگودھا کے قریب قصبہ طالب والا کے نواحی گاؤں میرو والا لا بسایا، جہاں ایک خدا ترس زمیندار منے خان نے انہیں کچھ زمین دی۔ اسی زمین پر انہوں نے کچا پکا سا گھر بنا لیا اور برسوں تک انتہائی سادہ زندگی گزارتے رہے۔ اقبال پھیری لگا کر روزی کماتا تھا جبکہ طیبہ گھریلو کام کاج کرتی تھی۔ وہ بے اولاد، معاشی طور پر کمزور مگر شریف النفس اور محنتی جوڑا تھا، جس کے بارے میں اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ وہ کبھی کسی مشکوک سرگرمی میں ملوث نہیں رہے۔
ان کی زندگی اس وقت عذاب بن گئی جب ٹک ٹاک کے ذریعے طیبہ کی دوستی لاہور کی ایک شادی شدہ خاتون سے ہوئی، جو چند دنوں کے لیے ان کے گھر آ کر رہی۔ بعد ازاں وہ خاتون پراسرار طور پر غائب ہو گئی۔ لڑکی کے ورثا نے لاہور کے تھانہ گرین ٹاؤن میں اغوا کا مقدمہ درج کروایا۔ تفتیش کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ مذکورہ خاتون واقعی کچھ دن طیبہ اور اقبال کے ہاں مقیم رہی تھی اور پھر اسے سیال موڑ سے بس پر بٹھا دیا گیا، مگر وہ گھر نہ پہنچ سکی اور آج تک لاپتہ ہے۔ ورثا کا الزام تھا کہ لڑکی کے پاس پانچ تولے سونا تھا، جو ممکنہ طور پر غبن کر لیا گیا۔
اسی مرحلے سے طیبہ اور اقبال کی آزمائش شروع ہوئی۔ پولیس اور لڑکی کے ورثا کی نظریں ان دونوں پر جم گئیں۔ مہینوں تک انہیں مختلف تھانوں میں طلب کیا جاتا رہا، گھنٹوں پوچھ گچھ، دھمکیاں، گالی گلوچ اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ پولیس نے مختلف مقامات پر کھدائیاں بھی کیں مگر کوئی ثبوت نہ ملا، اس کے باوجود شبہات ختم نہ ہوئے۔ ورثا مسلسل یہی موقف دہراتے رہے کہ جوڑے نے سونے کی لالچ میں لڑکی کو نقصان پہنچایا ہوگا۔
اس مسلسل دباؤ نے ان کی معاشی بنیادیں بھی ہلا کر رکھ دیں۔ انصاف کی امید میں پہلے انہوں نے گھر کا سامان بیچا، پھر اپنا واحد آشیانہ سرفراز نامی شخص کو دو لاکھ ستر ہزار روپے میں فروخت کر دیا، مگر حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید بگڑتے چلے گئے۔ دھمکیاں اور مبینہ بلیک میلنگ جاری رہی، جس نے انہیں ذہنی طور پر توڑ کر رکھ دیا۔
بالآخر ذہنی اذیت کی انتہا پر طیبہ اور اقبال نے زرعی سپرے پی کر خودکشی کی پہلی کوشش کی، مگر اہل علاقہ نے بروقت انہیں بچا لیا۔ عینی شاہدین کے مطابق ایمبولینس میں منتقل کرتے وقت بھی بعض پولیس اہلکار انہیں گالیاں دیتے اور اس اقدام کو ڈرامہ قرار دیتے رہے۔ چند دن بعد انہوں نے دوسری بار گندم میں رکھی جانے والی زہریلی گولیاں کھا لیں، جسے وہ خود “پکا بندوبست” قرار دے رہے تھے۔ تڑپتے ہوئے انہیں ڈی ایچ کیو ہسپتال سرگودھا منتقل کیا گیا، جہاں دونوں دم توڑ گئے۔
موت سے قبل طیبہ نے ایک ویڈیو بیان ریکارڈ کروایا، جو بعد میں منظر عام پر آیا۔ اس ویڈیو میں اس نے پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان سے پانچ تولے سونا اور پچیس لاکھ روپے مانگے جا رہے تھے اور انہیں مسلسل دھمکایا جا رہا تھا۔ یہی ویڈیو اس واقعے کو مزید سنگین بنا گئی۔
پولیس کی جانب سے الزامات کی تردید کی گئی ہے۔ تھانہ گرین ٹاؤن کے تفتیشی افسر جاوید خالد کا کہنا ہے کہ پولیس نے جوڑے کو بے گناہ قرار دیا تھا اور انہوں نے کسی باضابطہ فورم پر اپنا مؤقف پیش نہیں کیا۔ دوسری جانب تھانہ لکسیاں کے SHO عامر رضوان نے اعلیٰ افسران کو بھیجی گئی رپورٹ میں واضح طور پر لکھا کہ تھانہ گرین ٹاؤن کے ناروا سلوک کے باعث میاں بیوی نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ الزامات کی تفتیش کی جائے گی۔
واقعے کے بعد لاشیں کچھ دیر تک ڈی ایچ کیو ہسپتال میں پڑی رہیں۔ بعد ازاں ایک خدا ترس شخص دلبر خان نے تدفین کا انتظام کیا۔ طیبہ کے والدین بھی پہنچے، مگر بیٹی کی چارپائی اٹھانے کی ہمت نہ کر سکے اور خاموشی سے یہ منظر دیکھتے رہے، جو وہاں موجود ہر شخص کی آنکھوں کو نم کر گیا۔
اس واقعے پر عوامی اور سماجی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر غم و غصہ پایا جاتا ہے اور لوگ پولیس اصلاحات، شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ سانحہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری، کمزور شہریوں کے تحفظ اور نظامِ انصاف کی ساکھ پر ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا اس معاملے میں واقعی انصاف ہوتا ہے یا یہ بھی ماضی کے بے شمار واقعات کی طرح فائلوں میں دب کر رہ جاتا ہے۔
موت سے قبل دیا گیا خاتون کا ویڈیو بیان