کراچی (کیو این این ورلڈ/ڈاکٹربشیر بلوچ کی رپورٹ) شہرِ قائد میں جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی کی جانب مارچ کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید تصادم ہوا ہے، جس کے نتیجے میں پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کرتے ہوئے 12 کارکنوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جماعت اسلامی کے کارکنان نے پولیس کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد جب اسمبلی کی جانب پیش قدمی شروع کی تو پولیس نے انہیں روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ پولیس نے پہلے ہی حکمت عملی کے تحت کورٹ روڈ، نماز روڈ اور دیگر ملحقہ شاہراہوں پر موبائلز اور بسیں کھڑی کر کے راستے بلاک کر دیے تھے، تاہم مظاہرین کے رکاوٹیں عبور کرنے کی کوشش پر پولیس نے شیلنگ کی جس سے علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی۔
تصادم کے دوران مظاہرین کی جانب سے مبینہ پتھراؤ کے نتیجے میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ پولیس کے تشدد اور لاٹھی چارج سے متعدد سیاسی کارکن بھی زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس حکام نے کارروائی کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے 10 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے کر قیدیوں کی وین میں منتقل کر دیا ہے، جبکہ مظاہرین کا ساؤنڈ سسٹم والا ٹرک بھی تحویل میں لے کر تھانے منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کا کہنا ہے کہ کسی کو بھی سڑکیں بلاک کرنے اور قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، پولیس کی ٹیمیں اس وقت سڑکوں کو کلیئر کرانے کے لیے آپریشن کر رہی ہیں تاکہ ٹریفک کی روانی بحال کی جا سکے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ سندھ اسمبلی سے متصل تمام شاہراہوں پر ٹریفک بری طرح جام ہے اور گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں، جبکہ پولیس کی بھاری نفری نے اسمبلی کی طرف جانے والے تمام راستوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ جماعت اسلامی کے کئی کارکن پولیس سے بچنے کے لیے سندھ سیکرٹریٹ کے پیچھے گلیوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں، جہاں مقامی قیادت بھی موجود ہے۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کچھ دیر بعد کارکنوں سے خطاب کریں گے جس میں پولیس تشدد کی مذمت اور احتجاج کے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ شہر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔