اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری سے متعلق اہم ترین مرحلہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت اسلام آباد میں منعقدہ ایک پروقار تقریب کے دوران قومی ایئر لائن کی فروخت اور لین دین کے دستاویزات پر دستخط کیے گئے۔ اس اہم تقریب میں وزیرِ اعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خصوصی شرکت کی، جہاں حکومت اور عارف حبیب کنسورشیم کے مابین ٹرانزیکشن کے دستاویزات کا تبادلہ کیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر پوری قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل نہایت شفاف انداز میں بخوبی انجام کو پہنچا ہے۔ انہوں نے عارف حبیب اور ان کی ٹیم پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کے بہترین بزنس سفیر ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ ٹیم قومی ایئر لائن کو دوبارہ اس کے کھوئے ہوئے سنہری مقام پر واپس لے جائے گی۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ نئی انتظامیہ کے تحت مسافروں کے لیے آرام دہ سفر، عزت اور حفاظت پی آئی اے کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

تقریب کے آغاز پر وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے اس سنگ میل کے حصول پر وزیراعظم اور آرمی چیف کی رہنمائی اور تعاون کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ لین دین حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک نمایاں حصہ ہے جس میں شفافیت کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت کنسورشیم مجموعی طور پر 180 ارب روپے (تقریباً 650 ملین ڈالر) کی خطیر سرمایہ کاری کرے گا، جو ایئر لائن کی بحالی میں اہم ثابت ہوگی۔

سرمایہ کاری کی تفصیلات بتاتے ہوئے محمد علی نے کہا کہ مجموعی رقم میں سے 125 ارب روپے براہِ راست پی آئی اے کے مالیاتی ڈھانچے میں لگائے جائیں گے، جبکہ 55 ارب روپے حکومت پاکستان کو ادا کیے جائیں گے۔ یہ گروتھ کیپیٹل فضائی بیڑے میں توسیع، سروسز کے معیار میں بہتری اور نجی شعبے کے جدید نظم و نسق کے نفاذ کے لیے استعمال کیا جائے گا تاکہ پی آئی اے ایک بار پھر عالمی سطح پر معتبر نام بن سکے۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں 60 کی دہائی کے عروج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک دور تھا جب دنیا بھر میں ’پی آئی اے گریٹ پیپل ٹو فلائی ود‘ کے بورڈز نظر آتے تھے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی انتظامیہ کی محنت اور حکومتی تعاون سے قومی ایئر لائن ایک بار پھر وہی مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے