اسلام آباد(ویب ڈیسک) قومی ایئر لائن پی آئی اے کی نجکاری کا عمل مکمل، عارف حبیب گروپ 135 ارب روپے کی بولی کے ساتھ نیا مالک بن گیا

اسلام آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کی نجکاری کا طویل اور کثیر المراحل عمل اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے، جہاں عارف حبیب گروپ 135 ارب روپے کی بلند ترین بولی لگا کر کامیاب دہندہ قرار پایا ہے۔ نجکاری کے اس تیسرے اور حتمی مرحلے میں سخت مقابلہ دیکھنے میں آیا، جہاں لکی سیمنٹ گروپ نے 134 ارب روپے کی بولی دی، تاہم عارف حبیب گروپ محض ایک ارب روپے کے فرق سے پی آئی اے کے 75 فیصد شیئرز حاصل کرنے میں کامیاب رہا۔ وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ اس اہم تقریب میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر اطلاعات، وزیر نجکاری اور مختلف کنسورشیم کے نمائندوں سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی، جو پاکستان کی نجکاری کی تاریخ میں گزشتہ 20 سال کے دوران ہونے والی سب سے بڑی پیش رفت کے گواہ بنے۔

بولی کے عمل کا آغاز انتہائی سنسنی خیز رہا، جہاں دوسرے مرحلے میں لکی گروپ اور عارف حبیب گروپ کے درمیان اعصاب شکن مقابلہ جاری رہا۔ لکی گروپ نے اپنی بڈنگ بڑھا کر 115 ارب 50 کروڑ روپے کی تو عارف حبیب گروپ نے فوراً اسے 116 ارب روپے تک پہنچا دیا۔ یہ مقابلہ وقفے وقفے سے جاری رہا، جس کے دوران لکی سیمنٹ نے 120 ارب 25 کروڑ کی پیشکش کی، لیکن وقفے سے قبل عارف حبیب گروپ نے 121 ارب روپے کی بولی دے کر برتری حاصل کر لی۔ پہلے مرحلے میں تین پری کوالیفائیڈ بڈرز نے حصہ لیا تھا، جس کے بعد پرائیویٹائزیشن کمیشن بورڈ اور کابینہ کمیٹی برائے نجکاری نے ریفرنس قیمت (ریزرو پرائس) کی منظوری دی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

مشیر نجکاری محمد علی نے بڈنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قومی ایئر لائن کی فروخت کا عمل مکمل ہونا ایک بڑی کامیابی ہے کیونکہ طویل عرصے سے کوئی بڑی نجکاری نہیں ہو سکی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے پی آئی اے کے مالیاتی خسارے میں کمی آئے گی اور نئے مالکان کی سرمایہ کاری سے ایئر لائن کی سروسز اور آپریشنز میں بہتری کی توقع ہے، جس سے عالمی ہوائی سفر کی مارکیٹ میں پاکستان کا وقار بحال ہو سکے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے