پشاور (کیو این این ورلڈ) پشاور ہائیکورٹ نے موٹر وے اور جی ٹی روڈ کی بندش کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے آئی جی پولیس اور چیف سیکرٹری کو سڑکیں فوری طور پر کھولنے کا حکم دے دیا ہے۔ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فراح جمشید نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ صوبے میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی خراب ہے، ایسے میں سڑکوں کی بندش عوام کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے آئی جی پولیس سے استفسار کیا کہ اب تک سڑکیں بند کرنے والوں کے خلاف کتنے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ آئین ہر شہری کو آزادانہ نقل و حرکت کا حق دیتا ہے، مگر یہاں پورا پاکستان کھلا ہے اور صرف خیبرپختونخوا کو بند رکھا گیا ہے، جو اپنے ہی لوگوں کے خلاف اقدام کے مترادف ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پی ٹی آئی کارکنان نے انبار انٹرچینج اور اٹک پل کے قریب دھرنا دے رکھا ہے، جس سے بین الصوبائی رابطے منقطع ہو گئے ہیں۔ اس صورتحال کی وجہ سے عام شہریوں، مسافروں اور خصوصاً مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ آئی جی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ احتجاجی مقامات 14 سے کم ہو کر 6 رہ گئے ہیں اور انہوں نے مزید دو دن کی مہلت طلب کی۔
عدالت نے آئی جی کی مہلت مسترد کرتے ہوئے حکم دیا کہ موٹر وے کسی صورت بند نہیں ہونی چاہیے اور آج ہی تمام راستے کھولے جائیں۔ عدالت نے چیف سیکرٹری اور آئی جی کو کل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ق) نے بھی اس بندش کے خلاف آئینی درخواست دائر کی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ سڑکیں صوبائی حکومت کی سرپرستی میں بند کی گئی ہیں۔
مسلم لیگ (ق) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ کیسی حکومت ہے جو اپنے ہی عوام کے راستے بند کر کے بیٹھی ہے۔ درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ عدالت فوری نوٹس لے کر عوام کو اس ذہنی اور سفری اذیت سے نجات دلائے۔ پشاور ہائیکورٹ کے اس سخت حکم کے بعد انتظامیہ پر سڑکیں واگزار کرانے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔