اسلام آباد/واشنگٹن/تہران (کیو این این ورلڈ) مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے ممکنہ تباہ کن سانحے سے بالآخر بچ گیا، جہاں پاکستان کی اعلیٰ سطحی سفارتکاری نے فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان نہ صرف جنگ بندی ممکن بنائی بلکہ دونوں ممالک کو براہِ راست مذاکرات کی میز پر بھی لے آیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ممکنہ بڑے حملے کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کر دی اور مشروط جنگ بندی کا اعلان کیا۔
امریکی صدر کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کی قیادت سے ہونے والی براہِ راست بات چیت کے بعد کیا گیا، جس میں ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی مؤخر کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ جنگ بندی اس شرط کے ساتھ نافذ کی گئی ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ انداز میں کھولنے پر آمادہ ہو گا۔
دوسری جانب ایران نے بھی مثبت ردعمل دیتے ہوئے عندیہ دیا ہے کہ اگر اس کے خلاف حملے روک دیے جائیں تو وہ نہ صرف اپنی عسکری کارروائیاں معطل کرے گا بلکہ آبنائے ہرمز سے عالمی جہاز رانی کو بھی یقینی بنائے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے جنگ کے خاتمے کیلئے مؤثر اور مسلسل کردار ادا کیا۔
ادھر ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے بھی جنگ بندی کی توثیق سامنے آئی ہے، اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے میزائل یونٹس کو فائرنگ روکنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
اہم پیش رفت کے طور پر ایران اور امریکا نے 10 اپریل کو اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات پر اتفاق کر لیا ہے، جہاں پاکستان ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مطابق یہ مذاکرات 15 دن تک جاری رہ سکتے ہیں اور ان کا مقصد ایک جامع اور دیرپا امن معاہدہ طے کرنا ہے۔
ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں جن میں یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے، پابندیاں ختم کرنے اور مستقبل میں حملوں کے خلاف ضمانتیں شامل ہیں۔
جنگ بندی کے اعلان کے فوری بعد عالمی معیشت میں مثبت ردعمل دیکھنے میں آیا۔ تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں برینٹ کروڈ تقریباً 15.9 فیصد کمی کے بعد 92 ڈالر فی بیرل تک آ گیا جبکہ امریکی خام تیل بھی 16 فیصد سے زائد گر گیا۔
اسی طرح ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جاپان کا نکئی انڈیکس 4.5 فیصد جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی 5.5 فیصد تک بڑھ گیا، جسے ماہرین عالمی معیشت کیلئے بڑا ریلیف قرار دے رہے ہیں۔
اگرچہ جنگ بندی کا اعلان ہو چکا ہے، تاہم زمینی صورتحال مکمل طور پر مستحکم نہیں۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے قزوین، تہران اور ہمدان میں متعدد کروز میزائل مار گرائے جبکہ جنوبی ایران میں ایک اسرائیلی ڈرون بھی تباہ کیا گیا۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام اس جنگ بندی پر تشویش کا شکار ہیں، اگرچہ وہ امریکا کے فیصلے کی پیروی کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی جانب سے محدود کارروائیاں جاری رہنے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، تاہم وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل بھی جنگ بندی کا حصہ ہے۔
پاکستان کی سفارتی کامیابی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے، پاکستان میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر نے اس اہم پیش رفت میں اسلام آباد کے کردار کو قابلِ تحسین قرار دیا ہے۔
دوسری جانب امریکی سیاست میں بھی اس فیصلے پر تنقید سامنے آئی ہے، جہاں رکن کانگریس جم میک گورن نے صدر ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کے تحت ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر محصولات عائد کر سکتے ہیں، جنہیں ایران تعمیر نو کیلئے استعمال کرے گا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ ایران کیلئے بڑی سفارتی کامیابی ہو گی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ جنگ بندی عارضی ہے، تاہم اسلام آباد مذاکرات مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔ اگر فریقین معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کیلئے بھی ایک تاریخی موڑ ثابت ہوگا۔