اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاکستان نے حالیہ مہینوں میں واشنگٹن میں جس انداز سے اسٹریٹجک سفارت کاری کو بروئے کار لایا ہے، اس نے نہ صرف امریکا کے ساتھ تعلقات کو ایک نئی سطح پر پہنچا دیا ہے بلکہ عالمی مبصرین کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ بین الاقوامی جریدے ‘The Diplomat’ نے پاکستان کی اس سفارتی حکمت عملی کو سراہتے ہوئے ایک تفصیلی مضمون شائع کیا ہے، جس میں پاکستان کو امریکا کا “ناگزیر اور قابلِ اعتماد شراکت دار” قرار دیا گیا ہے۔ جریدے کے مطابق پاکستان نے علاقائی کشیدگی اور تنازعات کو دانش مندی سے عالمی سفارتی فائدے میں تبدیل کرتے ہوئے واشنگٹن میں اپنی اہمیت ایک بار پھر منوا لی ہے۔

یہ پیش رفت مئی 2025 میں اس وقت سامنے آئی جب پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع شدید بحران کی صورت اختیار کر گیا، جسے بعض حلقوں میں ‘Operation Sindoor’ کے نام سے بھی جانا گیا۔ چار روز تک جاری رہنے والی ان جھڑپوں کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالثی کا دعویٰ کیا، تاہم بھارت نے اس پیش کش کو مسترد کرتے ہوئے اسے اپنی خودمختاری میں مداخلت قرار دیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو میں دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ “بھارت کسی تیسرے فریق کی ثالثی قبول نہیں کرے گا۔” عالمی مبصرین کے مطابق اسی انکار کے بعد امریکا اور بھارت کے تعلقات میں واضح سرد مہری دیکھنے میں آئی۔

اسی تناظر میں ‘The Diplomat’ کے مضمون “How Pakistan Conquered the US – While India Lost Trump” میں لکھا گیا ہے کہ بھارت، جو ایک عرصے تک امریکا کا قریبی اتحادی سمجھا جاتا تھا، اب 50 فیصد امریکی ٹیرف کا سامنا کر رہا ہے اور صدارتی سطح کے دوروں سے بھی محروم ہو چکا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان نے امریکی ثالثی کی کوششوں کو سراہا اور اس صورتحال کو ایک سفارتی موقع میں بدل دیا۔ نتیجتاً جون 2025 میں پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس مدعو کیا گیا، جہاں ان کی صدر ٹرمپ سے اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں پاکستان کی جانب سے امریکا کو قدرتی وسائل، خصوصاً تیل اور گیس کے شعبے میں تعاون کی پیش کش کی گئی، جس نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کی۔

اضافی عالمی رپورٹس کے مطابق اس بحران کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کو پاکستان کی تاریخ میں دوسرا فیلڈ مارشل مقرر کیا گیا، جبکہ صدر ٹرمپ نے مختلف مواقع پر انہیں اپنا “favorite field marshal” قرار دیا۔ ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی دہرایا کہ ان کی مداخلت کے باعث خطہ ایک ممکنہ جوہری جنگ سے بچ گیا، اگرچہ بھارت کی جانب سے اس دعوے کو مسلسل مسترد کیا جاتا رہا۔

ستمبر 2025 میں وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر کے مشترکہ وائٹ ہاؤس دورے نے پاک امریکا تعلقات کو مزید وسعت دی۔ ‘The Diplomat’ کے مطابق ابتدا میں بات چیت کا محور سیکیورٹی امور تھے، تاہم جلد ہی گفتگو تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون تک پھیل گئی۔ اسی عرصے میں جولائی 2025 کو پاکستان اور امریکا کے درمیان ایک Tariff Reduction Trade Agreement طے پایا، جس کے نتیجے میں پاکستانی برآمدات کو امریکی منڈی تک بہتر رسائی حاصل ہوئی۔ اس کے برعکس بھارت نہ صرف کواڈ سمٹ کی دعوت سے محروم رہا بلکہ اسے کسی قسم کی تجارتی رعایت بھی نہ مل سکی۔

عالمی و مقامی رپورٹس کے مطابق اسی دورے کے دوران پاکستان نے امریکا کو بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے پر قائل کیا، جس کا باضابطہ اعلان امریکا نے جنوری 2026 میں کیا۔ سفارتی حلقوں کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔

اگست 2025 میں امریکا کی جانب سے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے گئے، جن میں سے 25 فیصد کی وجہ بھارت کی روس سے تیل کی خریداری بنی۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ نے بھارت کو پہلے ہی خبردار کر رکھا تھا کہ روسی تیل کی درآمدات میں کمی نہ کی گئی تو تجارتی پابندیاں سخت کی جائیں گی۔ جنوری 2026 میں امریکی ٹریژری سیکریٹری اسکاٹ بیسینٹ نے عندیہ دیا کہ اگر بھارت روسی تیل کی خرید کم کرے تو 25 فیصد ٹیرف ختم ہو سکتے ہیں، تاہم تاحال بھارت کو واضح تجارتی نقصان کا سامنا ہے۔ اس کے برعکس پاکستان نے امریکا کے ساتھ تجارتی حجم میں اضافہ کیا اور چین کے ساتھ بھی سفارتی روابط کو متوازن انداز میں آگے بڑھایا، جس سے اس کی عالمی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی۔

‘The Diplomat’ کے ایک اور مضمون “2025: The Year Pakistan Stepped Back into the Spotlight” میں 2025 کو پاکستان کے لیے ایک فیصلہ کن سال قرار دیا گیا ہے، جس میں ملک نے عالمی امور میں دوبارہ نمایاں حیثیت حاصل کی۔ مضمون کے مطابق پاکستان نے نہ صرف امریکا بلکہ چین اور ایران کے ساتھ بھی تعلقات کو بہتر کیا، جبکہ امریکا کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے نے خطے میں اس کی اسٹریٹجک اہمیت کو مزید اجاگر کیا۔

مجموعی طور پر ان سفارتی کامیابیوں نے پاکستان کو علاقائی اور عالمی سطح پر ایک مضبوط اور فعال کردار عطا کیا ہے۔ جہاں بھارت امریکی ٹیرف اور سفارتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، وہیں پاکستان تجارت، سرمایہ کاری اور سیکیورٹی تعاون میں نئی راہیں کھول رہا ہے۔ دستیاب عالمی تجزیوں کے مطابق پاکستان کی اسٹریٹجک سفارت کاری نے اسے امریکا کی نئی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں مقام دلایا ہے اور عالمی منظرنامے پر اس کی حیثیت ایک بار پھر مستحکم ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے