پاکستان کا دفاعی حصار، انٹیلیجنس فورسز کے گمنام ہیروز کی قربانیاں اور پیشہ ورانہ مہارت
تحریر:شاہد خان
کسی بھی ریاست کی بقا کا دارومدار اس کے دفاعی حصار پر ہوتا ہے، اور اس حصار کی سب سے مضبوط کڑی وہ "خاموش سپاہی” ہوتے ہیں جو دشمن کے وار کرنے سے پہلے ہی اس کا ہاتھ روک لیتے ہیں۔ انٹیلیجنس فورسز کسی بھی ملک کے اعصابی نظام کی مانند ہوتی ہیں، جو خاموشی سے خطرات کو بھانپتی ہیں اور قوم کو کسی بڑے حادثے سے بچا لیتی ہیں۔ آج جب دنیا روایتی جنگوں سے نکل کر "ففتھ جنریشن وار فیئر” کے دور میں داخل ہو چکی ہے، ہماری انٹیلیجنس فورس کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ حساس اور اہم ہو گیا ہے۔ حالیہ مہینوں میں جس طرح انٹیلیجنس فورس نے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا ہے، وہ ان کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے، کیونکہ جدید دور میں دشمن صرف سرحدوں پر نہیں ملتا بلکہ وہ انٹرنیٹ کی گہرائیوں اور سوشل میڈیا کے پروپیگنڈے میں بھی چھپا ہوتا ہے۔
ہماری فورس نے نہ صرف زمین پر شرپسندوں کا تعاقب کیا ہے بلکہ "سائبر اسپیس” میں بھی ملک دشمن عناصر کا راستہ روکا ہے، اور یہ انٹیلیجنس فورس کی بروقت اطلاع ہی تھی جس نے کئی حساس مقامات کو بڑی تباہی سے بچایا۔ انٹیلیجنس فورس کی کامیابی کا ایک بڑا راز ان کا عوامی رابطہ اور رازداری کا توازن ہے، جہاں یہ ادارے ملک کی سلامتی کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں، وہیں یہ ہم شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ ہم ان کی "آنکھیں اور کان” بنیں کیونکہ ایک مستعد شہری اور ایک بیدار انٹیلیجنس فورس مل کر ہی پاکستان کو امن کا گہوارہ بنا سکتے ہیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ آج اگر ہم چین کی نیند سوتے ہیں، تو اس کے پیچھے انٹیلیجنس فورس کے ان گمنام ہیروز کی قربانیاں اور شب و روز کی محنت شامل ہے جن کے چہرے شاید کبھی اخبارات کی زینت نہیں بنتے، مگر جن کا کام تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہے۔
