اسلام آباد (کیو این این ورلڈ)آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے لیے پاکستانی پس منظر اور گرین پاسپورٹ رکھنے والے کرکٹرز کو بھارتی ویزوں کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی 5 اہم ٹیموں کے کرکٹ بورڈز نے اس سنگین معاملے پر آئی سی سی سے رابطہ کر لیا ہے، تاہم تاحال آئی سی سی کی جانب سے کوئی واضح جواب نہیں ملا اور نہ ہی بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے اس حوالے سے کوئی ٹھوس یقین دہانی کرائی ہے۔ یو اے ای، عمان، اٹلی، کینیڈا اور امریکہ کی ٹیموں میں ایسے متعدد کھلاڑی شامل ہیں جن کا تعلق یا تو پاکستان سے ہے یا وہ پاکستانی پاسپورٹ کے حامل ہیں، جس کی وجہ سے ان ممالک کے بورڈز کو اپنے اہم کھلاڑیوں کی ٹورنامنٹ میں شرکت کے حوالے سے شدید خدشات لاحق ہیں۔
مختلف کرکٹ بورڈز نے اس معاملے پر آپس میں مشاورت شروع کر دی ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ اپنی پریشانی کا اظہار کیا ہے، کیونکہ ماضی میں بھی پاکستانی بیک گراؤنڈ رکھنے والے کھلاڑیوں کو بھارت کے ویزے حاصل کرنے میں سخت دشواریوں اور تاخیر کا سامنا رہا ہے۔ ایسوسی ایٹ ممالک کے بورڈز کا موقف ہے کہ اگر محض پاکستانی پس منظر رکھنے والوں کو ماضی میں ویزے نہیں ملے تو جن کھلاڑیوں کے پاس اب بھی پاکستانی پاسپورٹ ہیں، ان کے لیے صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے اب تک کسی بھی قسم کی گارنٹی نہ ملنے اور بھارت کی خاموشی نے ان ٹیموں کی ورلڈ کپ کی تیاریوں کو متاثر کر دیا ہے، جبکہ کرکٹ حلقوں میں اس امتیازی رویے پر گہری تشویش پائی جاتی ہے۔