اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان کسی بھی "ابراہیمی معاہدے” کا حصہ نہیں بنے گا اور اس سے ملک کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایران کے خلاف طاقت کے استعمال اور اقتصادی پابندیوں کے سخت خلاف ہے اور ہمیشہ مسائل کے پرامن حل کا حامی رہا ہے۔
ترجمان نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں شامل نہیں ہوگا، تاہم وہ "بورڈ آف پیس” کا حصہ مشترکہ حکومتی رولز کے مطابق بنا ہے۔ انہوں نے ایران اور خطے میں منڈلاتے جنگ کے بادلوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ خطے میں امن بحال ہوگا اور تمام تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جائیں گے۔
یورپ اور بھارت کے درمیان تجارتی معاہدوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے یورپ کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور دونوں کے درمیان تجارتی حجم 12 ارب یورو سے تجاوز کر چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے حال ہی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور جاری منصوبوں کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔
سفارتی سرگرمیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے ٹیلیفونک رابطے کیے، جبکہ وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم ڈیووس میں شرکت کر کے عالمی سربراہان سے ملاقاتیں کیں۔ ان دوروں کا مقصد ملک میں سرمایہ کاری، تجارتی فروغ اور عوامی رابطوں میں اضافہ کرنا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے دورے کے دوران ٹیلی کام کمپنی "اتصالات” کی پاکستان میں سرمایہ کاری پر بھی اہم بات چیت ہوئی۔
امریکی ٹریول ایڈوائزری کے حوالے سے دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات معمول کے مطابق ہیں اور امریکہ نے پہلے سے جاری بعض ایڈوائزریز واپس بھی لے لی ہیں۔ ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ قزاقستان کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جس کے دوران مختلف مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط متوقع ہیں، تاہم ریلوے منصوبے پر فی الحال کوئی نئی پیش رفت نہیں ہوئی۔