کولمبو (کیو این این ورلڈ) ایشیا کپ کے بعد ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بھی بھارتی سیاست کے سائے میں آگیا ہے، جہاں روایتی حریفوں کے درمیان کھیلے جانے والے ہائی وولٹیج ٹاکرے کے آغاز پر ہی تلخ ماحول دیکھنے میں آیا۔ کولمبو کے آر پریماداسا اسٹیڈیم میں ٹاس کے موقع پر پاکستان اور بھارت کے کپتانوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے گریز کیا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ سیاسی تناؤ اب کھلاڑیوں کے مابین روایتی اخلاقیات پر بھی اثر انداز ہو رہا ہے۔ پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا اور بھارت کو بیٹنگ کی دعوت دی، تاہم اس اہم مرحلے پر دونوں ٹیموں کے سربراہوں کے درمیان مصافحہ نہ ہونا شائقینِ کرکٹ اور مبصرین کے لیے انتہائی حیران کن تھا۔

اس واقعے نے ایک بار پھر ان الزامات کو تقویت دی ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی پالیسیاں اور سیاسی دباؤ کھیلوں کے میدان میں تلخی کا باعث بن رہا ہے۔ میچ سے قبل بھی بھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے ہینڈ شیک کے حوالے سے ایک مبہم بیان دیا تھا، جس پر اب ٹاس کے وقت عملدرآمد کر کے کھیل کی روح کو مجروح کیا گیا ہے۔ کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ میدانِ جنگ اور کھیل کے میدان میں فرق ہونا چاہیے، مگر بھارتی کپتان کے اس سرد رویے نے ثابت کر دیا ہے کہ بھارتی سیاست کھیل کی روایات پر حاوی ہو چکی ہے۔ اس بدمزگی کے باوجود پاکستانی شاہینوں نے بھرپور جوش و خروش کے ساتھ میدان سنبھال لیا ہے اور ان کی تمام تر توجہ اب حریف ٹیم کو کم سے کم اسکور پر محدود کرنے پر مرکوز ہے۔

سوشل میڈیا اور کرکٹ حلقوں میں بھارتی کپتان کے اس رویے پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے، جہاں صارفین اسے اسپورٹس مین اسپرٹ کے منافی قرار دے رہے ہیں۔ اسٹیڈیم میں موجود ہزاروں تماشائیوں نے اس منظر کو خاموشی سے دیکھا، جبکہ عالمی میڈیا پر بھی اس غیر پیشہ ورانہ رویے پر بحث شروع ہو گئی ہے۔ دوسری جانب چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اسٹیڈیم میں موجود ہیں اور انہوں نے قومی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اسے ایک بہترین مقابلہ قرار دینے کی امید ظاہر کی ہے۔ ٹاس کے موقع پر ہونے والے اس واقعے نے میچ کے گرد تناؤ کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے، جس کے بعد اب شائقین کی نظریں میدان میں ہونے والے اصل مقابلے پر لگی ہوئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے