یمن کی طویل خانہ جنگی نے اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب دہائیوں پرانے اسٹریٹجک اتحادیوں، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یمن کے مستقبل اور تزویراتی اہداف پر شدید اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ سعودی عرب کی جانب سے اماراتی فوج کو ملک چھوڑنے کے لیے دی جانے والی 24 گھنٹوں کی ڈیڈ لائن اور مکلا بندرگاہ پر حالیہ فوجی کارروائی نے خطے میں ایک نئی سفارتی و عسکری صف بندی کا الارم بجا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ٹکراؤ محض ایک سرحدی تنازع نہیں بلکہ بحیرہ عرب کے اہم ساحلی راستوں پر کنٹرول اور یمن کی سالمیت کے حوالے سے دو مختلف نظریات کی وہ جنگ ہے جو پورے مشرقِ وسطیٰ کے نقشے پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ریاض/ابوظہبی (کیو این این ورلڈ): یمن کی طویل خانہ جنگی ایک بار پھر علاقائی سیاست میں اس وقت شدید ہلچل کا باعث بن گئی ہے جب حوثی باغیوں کے خلاف برسرِ پیکار دو بڑے اتحادیوں، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اختلافات کھل کر سطح پر آگئے ہیں۔ سعودی عرب نے دوٹوک لہجہ اپناتے ہوئے متحدہ عرب امارات سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمنی حکومت کی درخواست پر 24 گھنٹوں کے اندر اپنی افواج یمن سے نکالے اور کسی بھی مقامی گروہ کو عسکری یا مالی معاونت فراہم کرنے کا عمل فوری طور پر بند کرے۔ اس مطالبے کی تائید یمن کے صدر رشاد العلیمی نے بھی کی ہے، جنہوں نے یو اے ای کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدہ منسوخ کرتے ہوئے ملک کی تمام بندرگاہوں اور گزرگاہوں پر 72 گھنٹوں کے لیے مکمل ناکہ بندی نافذ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگرچہ متحدہ عرب امارات نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سعودی بیان پر سخت مایوسی کا اظہار کیا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی اہداف میں پیدا ہونے والا فرق اب ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اس تصادم کی سب سے بڑی وجہ یمن کے مستقبل سے متعلق متضاد نظریات ہیں۔ سعودی عرب کی اولین ترجیح یمن میں ایک متحد اور مضبوط مرکزی حکومت کا قیام ہے تاکہ وہ اپنی سرحدوں کو محفوظ بنا سکے اور حوثی تحریک کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے ذریعے اس جنگ سے باعزت طریقے سے نکل سکے۔ سعودی قیادت کسی بھی صورت میں یمن کی تقسیم کے حق میں نہیں ہے کیونکہ ایک کمزور اور بکھرا ہوا یمن سعودی سلامتی کے لیے مستقل خطرہ بن سکتا ہے۔ اس کے برعکس، متحدہ عرب امارات جنوبی یمن میں زیادہ سرگرم ہے اور وہ وہاں کی ‘سدرن ٹرانزیشنل کونسل’ (STC) کی پشت پناہی کر رہا ہے جو جنوبی یمن کی علیحدگی یا وسیع تر خودمختاری کی خواہاں ہے۔ یو اے ای کا بنیادی مقصد بحیرہ عرب اور باب المندب جیسی اہم تزویراتی گزرگاہوں پر اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا ہے، جس کے لیے وہ عدن اور دیگر ساحلی علاقوں میں مضبوط مقامی ملیشیاؤں کی حمایت کر رہا ہے۔
یمن کا یہ بحران، جو 2011 کی ‘عرب بہار’ سے شروع ہوا اب ایک نئے موڑ پر کھڑا ہے، جہاں سعودی عرب اور یو اے ای کے مفادات بظاہر متصادم نظر آتے ہیں۔ جہاں سعودی عرب حوثیوں کے ساتھ امن معاہدے کی طرف بڑھ رہا ہے، وہیں یو اے ای کی جانب سے جنوبی علیحدگی پسندوں کو مبینہ اسلحہ کی فراہمی نے سعودی عرب کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں مکلا بندرگاہ پر سعودی فضائیہ کی کارروائی اور یو اے ای سے لائے گئے ساز و سامان کی تباہی نے ثابت کر دیا ہے کہ اب یہ اختلافات صرف بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ عسکری میدان میں بھی نظر آنے لگے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ان دونوں بڑی خلیجی قوتوں نے اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل نہ کیے تو یمن کا بحران نہ صرف مزید پیچیدہ ہو جائے گا بلکہ پورے خطے میں نئی اور خطرناک سفارتی و عسکری صف بندیاں جنم لے سکتی ہیں، جس کے اثرات پوری اسلامی دنیا پر مرتب ہوں گے۔