کراچی (ویب ڈیسک)چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے اپنے قائد کی گرفتاری پر قومی ادارے پر حملہ کیا، اگر یہی قدم پیپلز پارٹی اٹھاتی تو نہ جانے ہمارا کیا حشر کیا جاتا، جبکہ تحریک انصاف کے ساتھ تو ابھی کچھ ہو ہی نہیں رہا۔ لاڑکانہ چلڈرن اسپتال میں آئی سی یو بلاک کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اگر پی ٹی آئی انتہا پسندی کی سیاست کرے گی تو ریاست کے قانون کے مطابق ہونے والی سختی پر اسے شکایت نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے انگریزی محاورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ باورچی خانے کی گرمی برداشت نہیں کر سکتے انہیں باہر چلے جانا چاہیے، کیونکہ کسی بھی لیڈر پر نیب کیس بننے کے ردعمل میں قومی اداروں کو نشانہ بنانا قانوناً جرم ہے جس پر ایکشن ناگزیر ہوتا ہے۔ بلاول بھٹو نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی سیاست کو سیاسی دائرے میں واپس لائے، جو خود ان کی جماعت، کارکنوں اور ملک کے سیاسی استحکام کے لیے بہتر ہوگا، ورنہ ایک انتہا پسند تنظیم کی طرح کام کرنے پر ریاست کا رویہ بھی ویسا ہی ہوگا۔

ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ مفاہمت پی پی پی کا فلسفہ ہے اور اس حوالے سے صدر آصف علی زرداری کے پاس مفاہمت کی ایک طویل تاریخ موجود ہے، آج کے حالات میں بھی انہیں ہی یہ کلیدی کردار ادا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے بھارت اور افغانستان کی سرحدوں پر بگڑتی صورتحال اور اندرون ملک دہشت گردی کے خطرات کا ذکر کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی راستے نکالیں جو عوام کے مفاد میں ہوں۔ انتخابات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ الیکشن اپنے مقررہ وقت پر ہوں گے، تاہم جے یو آئی سمیت تمام جماعتوں کو چاہیے کہ وہ انتخابی اصلاحات پر توجہ دیں تاکہ شفاف انتخابات کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے وزیراعظم کی جانب سے شہید بے نظیر بھٹو کی برسی پر وفد بھیجنے کا خیر مقدم کیا، تاہم واضح کیا کہ اس موقع پر کوئی سیاسی بات چیت نہیں ہوئی۔

صوبہ سندھ میں صحت کی سہولیات کا تذکرہ کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت نے صحت کے شعبے میں ایسی عالمی معیار کی سہولیات فراہم کی ہیں جو کسی دوسرے صوبے میں موجود نہیں، جس کی بدولت بچوں کی شرح اموات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے ملک کے معاشی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی مہنگائی اور علاج و تعلیم کے اخراجات سے پریشان ہے، جس کے حل کے لیے پیپلز پارٹی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی جریدے ‘دی اکانومسٹ’ نے سندھ حکومت کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو دنیا میں چھٹے نمبر پر قرار دیا ہے، جو ہماری معاشی پالیسیوں کی کامیابی کا ثبوت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے