اسلام آباد: (کیو این این ورلڈ)وفاقی دارالحکومت کی مقامی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے مسلسل عدم حاضری پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف ریاستی اداروں پر گمراہ کن الزامات عائد کرنے اور ان کی ساکھ متاثر کرنے کے حوالے سے درج مقدمے کی سماعت اسلام آباد کے سینئر سول جج عباس شاہ نے کی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ملزم کی بارہا طلبی کے باوجود غیر حاضری قانون کی خلاف ورزی ہے، جس پر عدالت نے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ نے سہیل آفریدی کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت یہ مقدمہ درج کر رکھا ہے، جس میں ان پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کا الزام ہے۔

سماعت کے دوران عدالت نے استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ملزم کی حاضری ضروری ہے، تاہم مسلسل رعایت کے باوجود وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ سینئر سول جج عباس شاہ نے پولیس کو ہدایت جاری کی کہ وارنٹس کی تعمیل یقینی بنائی جائے اور وزیراعلیٰ کو ہر صورت گرفتار کر کے پیش کیا جائے۔ عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 17 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیکا ایکٹ کے تحت درج اس مقدمے میں وزیراعلیٰ کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ صوبائی حکومت کی جانب سے اس فیصلے کو چیلنج کیے جانے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے