اسلام آباد:(کیو این این ورلڈ) حکومت پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے ملک کو مالی جھٹکوں سے بچانے کے لیے ایک نیا مانیٹرنگ فریم ورک متعارف کرا دیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) منصوبوں کے مالی خطرات جانچنے کے لیے یہ نیا نظام نافذ کیا گیا ہے، جس کے تحت اب تمام صوبے اور وفاق ہر چھ ماہ بعد ان منصوبوں کی تفصیلی رپورٹ دینے کے پابند ہوں گے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پی پی پی منصوبوں کی وجہ سے حکومت پر مالی دباؤ 472 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جن میں 368 ارب روپے کے ہنگامی نوعیت کے واجبات اور ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں اضافے کی مد میں 150 ارب روپے سے زائد کی رقم شامل ہے۔ مجموعی واجبات میں مالی گارنٹیز کا حصہ 104 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق، ملک بھر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جاری 36 منصوبوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے، جس میں سب سے زیادہ مالی خطرہ صوبہ سندھ میں ظاہر ہوا ہے جہاں یہ رقم 335.6 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق وفاقی حکومت کے منصوبوں سے 90.6 ارب روپے جبکہ پنجاب کے منصوبوں سے 26.5 ارب روپے کا مالی دباؤ سامنے آیا ہے۔ یہ اعداد و شمار دسمبر 2025 تک کے عارضی تخمینوں پر مبنی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پی پی پی معاہدوں کے مالی خطرات بجٹ میں فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے تھے، تاہم اب نئے نظام کے تحت ان خطرات اور قرضہ جات کو باقاعدہ رپورٹس کا حصہ بنایا جائے گا۔ ان منصوبوں میں کم از کم آمدن کی گارنٹی، شرح سود میں تبدیلی، ڈالر ریٹ میں اتار چڑھاؤ اور تعمیراتی لاگت میں اضافہ بڑے مالی خطرات کے طور پر سامنے آئے ہیں جن کی کڑی نگرانی اب اس نئے فریم ورک کے ذریعے کی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے