اسلام آباد(ویب ڈیسک)تحریک تحفظ آئین پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ قومی کانفرنس میں سیاسی رہنماؤں، وکلا، صحافیوں، دانشوروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے موجودہ سیاسی و آئینی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مفاہمت کے بجائے مزاحمتی سیاست اختیار کرنے پر زور دیا۔ شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آئین، عدلیہ، میڈیا اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے منظم جدوجہد ناگزیر ہو چکی ہے۔

کانفرنس میں آئینی ترامیم کو مسترد کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو غیر مؤثر بنانے، عدلیہ کی آزادی محدود کرنے اور پیکا ایکٹ کے ذریعے اظہارِ رائے پر قدغن لگانے کی مذمت کی گئی۔ شرکا کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کے بجائے جمہوری مزاحمت ہی واحد راستہ ہے اور اگر تحریک انصاف اس راستے کا انتخاب کرتی ہے تو تمام جمہوری قوتیں اس کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔

تحریک کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے سیاسی قیادت کو آپس میں بیٹھ کر بات چیت کرنے کی دعوت دی اور مطالبہ کیا کہ 8 فروری کے انتخابات میں جس جماعت کو مینڈیٹ ملا اسے تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری مکالمہ وقت کی ضرورت ہے اور اگر مذاکرات مقصود ہوں تو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جانی چاہیے۔

سینئر سیاست دان جاوید ہاشمی نے کہا کہ آزادی اور حقوق قربانیوں سے حاصل ہوتے ہیں، پسپائی سے نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوری جدوجہد طویل ہوتی ہے اور قوموں کی تاریخ میں قربانیاں ایک مستقل باب رہی ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ موجودہ حالات کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا بحران ہیں۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے قوم کو اسٹریٹ موومنٹ کے لیے تیار رہنے کا پیغام دیا ہے کیونکہ جبر کے اس نظام سے نجات کا کوئی اور راستہ باقی نہیں رہا۔

اسد قیصر نے کہا کہ اب احتجاج اور مزاحمت کے سوا کوئی آپشن نہیں بچا اور انصاف کے حصول کے لیے عوام کو سڑکوں پر آنا ہوگا۔ جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے غیر جانبدار انتخابات، آئین کے تحفظ اور بدنیتی سے کی گئی آئینی ترامیم کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

ایمان مزاری نے کہا کہ ظلم اور جبر کے سامنے مفاہمت نہیں بلکہ مزاحمت ہی واحد اصولی راستہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر تحریک انصاف مزاحمت کا فیصلہ کرتی ہے تو وہ اور دیگر جمہوری قوتیں اس کے شانہ بشانہ ہوں گی۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی نے آئین کے تحفظ کی جدوجہد کا آغاز کر رکھا ہے، تاہم مذاکرات یا مزاحمت کا حتمی فیصلہ محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کے سپرد ہے، جنہیں بانی پی ٹی آئی کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے عدالتی فیصلوں کو ناانصافی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں حقیقی انصاف ناپید ہو چکا ہے اور جمہوریت کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے کہا کہ ملک میں عملی طور پر اعلانیہ مارشل لا نافذ ہے اور میڈیا و عدلیہ کو مکمل کنٹرول میں رکھا گیا ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آئین، عدلیہ، میڈیا اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر پُرامن مزاحمت جاری رکھی جائے گی اور جمہوری جدوجہد کو مزید منظم کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے